صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 317 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 317

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۱۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف بط رَسُولِ اللهِ ﷺ کہلاتے ہیں۔اشباط کا لفظ عرف عام میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی ذریت اور لفظ قبائل ذریت اسماعیل کے لئے مستعمل ہوا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۱) اور قرآن مجید میں لفظ اشتباط جہاں کہیں آیا ہے، بنی اسرائیل اور حضرت یعقوب علیہ السلام ہی کے ذکر میں بیان ہوا ہے۔سورۃ الاعراف آیت ۱۶۱،۱۶۰ میں فرماتا ہے: وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى اُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَ بِهِ يَعْدِلُونَ ، وَ قَطَعْنَهُمُ اثْنَتَى عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أَمَدًا - اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے ذریعہ سے ہدایت پارہے ہیں اور اسی کے ذریعہ سے (دنیا میں ) انصاف کر رہے ہیں۔اور ہم نے ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا (جو اب ترقی کر کے قومیں بن گئے ہیں) سورة البقرة آیت نمبر ۱۳۷، آل عمران آیت نمبر ۸۵ اور سورۃ النساء آیت نمبر ۱۶۴ میں (وَ يَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ ) حضرت یعقوب کی ذریت کے ساتھ یہ لفظ مذکور ہے۔سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۴۱ آم تَقُولُونَ إِنَّ ابراهم واستعيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَظری سے ظاہر ہے کہ اچھے معنوں میں لفظ اسباط استعمال ہوتا ہے۔یعنی اچھی ذریت جو امتیازات کا تسلسل قائم رکھنے والی ہو۔ترجمہ: (اے اہل کتاب) کیا تم ( یہ ) کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد یہودی یا سیمی تھے۔٣٠ - يَعدُونَ فِي السَّبْتِ یعنی احکام سبت کے بارے میں حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔سبت کے معنی ہیں آرام کرنا، کام کاج بند کرنا۔لغوی معنی قطع و انقطاع کے ہیں (اقرب الموارد - سبت) اس کی شرح کتاب احادیث الانبیاء باب ۳۶ میں گذر چکی ہے۔۳۱- شرعاً : ابو عبیدہ نے شرعا کے معنی شَوَارع کئے ہیں جو شارع کی جمع ہے یعنی سطح آب پر آنے والیاں اور حضرت ابن عباس سے اس کے معنی موٹی تازی چمکیلے بدن والیاں جو سر بلند کئے قلابازیاں لگاتی ہوئیں سطح آب پر نمودار ہوں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۱) موسوی شریعت میں ہفتہ کے سات دنوں میں سے ایک دن عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا تھا اور اس دن د نیادی کام کاج کرنا حرام تھا۔اسلام میں ان معنوں میں ایسا کوئی دن مخصوص نہیں۔تمام ایام ہی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم ہے۔تورات میں سنت کا لفظ ایک معین دن کے لئے بھی ہے اور مطلق احکام الہی کے مفہوم میں بھی بیان ہوا ہے۔بائبل میں ہے: "تم اپنے لئے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لئے کھڑی کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو اس لئے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔تم میرے سبتوں کو ماننا اور میرے مقدس کی تعظیم کرنا۔میں خداوند ہوں۔“ (احبار باب ۲۶ : ۲۱) خاص دن سے متعلق حکم کے لئے دیکھئے خروج باب ۲۰ : ۸ تا ۱۱ اور اس باب میں دیگر احکام کا بھی ذکر ہے۔خروج باب ۳۱ میں بھی سبت کے متعلق تعلیم بیان کی گئی ہے۔يَعْدُونَ في السبت سے مراد احکام الہی کی نافرمانی ہے۔جس کی پاداش کا مفصل ذکر احبار ۲۶: ۱۴ تا ۴۶ میں مذکور ہے۔ان کی اس نافرمانی کا ذکر سورۃ الاعراف