صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 11 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 11

صحیح البخاری جلد ۱۰ 11 ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحِي گے۔حضرت نوح کہیں گے : میں اس مقام پر نہیں فَيَقُوْلُ ائْتُوا خَلِيْلَ الرَّحْمَن فَيَأْتُونَهُ (کہ سفارش کروں) اور وہ اپنے اس سوال کو یاد کریں گے جو انہوں نے اپنے رب سے کیا تھا۔یعنی اس فَيَقُوْلُ لَسْتُ هُنَاكُمْ انْتُوا مُوسَى بات کا سوال جس کا انہیں علم نہیں تھا۔وہ (اس عَبْدًا كَلَّمَهُ اللهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ سے شرمندہ ہوں گے اور کہیں گے: خلیل الرحمن فَيَأْتُونَهُ فَيَقُوْلُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ کے پاس جاؤ۔اس پر وہ ان کے پاس جائیں گے۔تو قَتْلَ النَّفْسِ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحِي (خلیل الرحمٰن) کہیں گے : میں اس مقام پر نہیں (کہ سفارش کروں۔موسیٰ کے پاس جاؤ۔وہ ایسا مِنْ رَبِّهِ فَيَقُولُ الْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللهِ بندہ ہے جس سے اللہ نے کلام کیا اور جس کو اُس وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللهِ وَرُوحَهُ فَيَقُوْلُ نے تورات دی۔چنانچہ لوگ اُن کے پاس آئیں لَسْتُ هُنَاكُمْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ گے۔حضرت موسیٰ کہیں گے: میں اس مقام پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا نہیں ہوں (کہ سفارش کروں ) اور وہ اس نفس کا واقعہ قتل یاد کریں گے جو انہوں نے مار ڈالا تھا، تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي بغير اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا۔اور وہ اپنے فَأَنْطَلِقُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي ربّ سے شرمندہ ہوں گے اور کہیں گے : عیسی کے فَيُؤْذَنَ لِي فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے اور اُس کے رسول اور کلمہ اللہ اور رکن روح تھے۔حضرت عیسی کہیں سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ گے : میں اس مقام پر نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ پاس جاؤ، جو ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کو پہلے وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَعْ فَأَرْفَعُ بھی گناہوں سے محفوظ رکھا اور بعد میں بھی۔رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيْدٍ يُعَلِّمُنِيْهِ ثُمَّ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔میں چلا جاؤں أَشْفَعْ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ گا ، جاکر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی۔جب میں اپنے ربّ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُوْدُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُ کو دیکھوں گا، میں سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب رَبِّي مِثْلَهُ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا تک اللہ چاہے گا، مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔پھر لے امام راغب نے "عمر" کے معنی ”محفوظ رکھنا“ بھی کئے ہیں۔(المفردات فی غریب القرآن۔غفر )