صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 316 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 316

اسم ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۵- مُتَبر کے معنی ہیں خُسْرَان یعنی گھاٹا پانے والا۔ اس کا ذکر کتاب احادیث الانبیاء باب ۲۹ میں بھی گزر چکا ہے۔ ۲۶- اسی کے معنی ہیں احْزَن یعنی میں غمگین ہوں۔ مجھے افسوس ہے تَأْس تَحْزَن تو غمگین ہے۔ پہلا لفظ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۹۴ میں وارد ہوا ہے۔ فرماتا ہے: فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يُقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسُلْتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ الى عَلَى قَوْمٍ كَفِرِينَ ) اس پر وہ (شعیب) ان سے پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور کہتے گئے: اے میری قوم ! میں نے اپنے رب کے پیغام تم کو پہنچا دیئے تھے اور تم کو نصیحت کر دی تھی۔ پس اب میں منکر قوم پر کس طرح افسوس کروں۔ اور دوسرا لفظ سورۃ المائدہ آیت نمبر ۲۷ میں ہے، فرماتا ہے: قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيَهُونَ فِي الْأَرْضِ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ ) ترجمہ : (اللہ نے) فرمایا: (اگر تیری یہی خواہش ہے ) تو انہیں اس ( ملک) سے چالیس سال (تک) کے لئے یقینی طور پر محروم کر دیا جاتا ہے ، وہ زمین میں سرگردان ( ہو کر) پھرتے رہیں گے۔ پس تو باغی لوگوں پر افسوس نہ کر۔ سورۃ المائدۃ میں مذکورہ بالا اظہار افسوس یہود سے متعلق ہے۔ اسی سورۃ ( المائدہ) کی آیت ۶۹ میں اہلِ کتاب (یہود و نصاری) کو مخاطب کیا گیا ہے ، فرماتا ہے : قُلْ يَأَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا الثورية ۔ موا التَّوْرَيةَ وَالْإِنْجِيلَ وَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَ كَثِيرًا مِنْهُم مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَ كُفْرًا ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ) ترجمہ: تو کہہ دے (کہ) اے اہل کتاب جب تک تم تورات اور انجیل (کو) اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتارا گیا ہے اس کو ظاہر نہیں کروگے (اس وقت تک ) تم کسی (اچھی بات پر (قائم) نہیں اور جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ ان میں سے بہتوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور ہی بڑھا دے گا۔ پس تو اس کا فر قوم پر افسوس نہ کر۔ ۲۷- اسْتَرْهَبُوهُمُ ابو عبیدہ کے نزدیک اِسْتَرْهَبُوهُمْ ، رَهْبَةً (خوف) سے مشتق ہے، یعنی خَوَّفُوهُمْ انہیں خوف زدہ کر دیا۔ فرماتا ہے : قَالَ الْقُوا فَلَمَّا الْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُ وَ بِسِحْرٍ عَظِيمٍ (الأعراف: ۱۱۷) موسیٰ نے کہا، تم (پہلے) پھینکو۔ پھر جب انہوں نے ( اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینک دیں تو لوگوں کی آنکھوں پر فریب کر دیا اور اُنہیں ڈرا دیا اور ایک بہت بڑا فریب ( لوگوں کے سامنے ) اُنہوں نے پیش کیا۔ ۲۸ - تلقف کے معنی ہیں تَلْقَمُ یعنی وہ نگل جاتا۔ وہ نگل جاتا ہے۔ فرماتا ہے : وَ اَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِلُونَ (الأعراف: ۱۱۸) ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ تو اپنا سونٹا ڈال دے۔ ( جب اس نے ایسا کیا تو اچانک یوں معلوم ہوا کہ ) وہ جادو گروں کے فریب کو نگلتا جارہا ہے۔ ٢٩ - الْأَسْبَاطُ کے معنی ہیں قَبَائِل اس کی واحد سبط ہے۔ بمعنی قبیلہ و جنس کہتے ہیں: مِنْ أَيِّ سِبْط انت یعنی آپ کسی قبیلے سے ہیں؟ سب کے لغوی معنی تسلسل اور تابع کے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ دراصل السبط ہے۔ جس کے معنی شاخدار درخت کے ہیں۔ بیٹی کا بیٹا بھی سبط کہلاتا ہے۔ جیسے امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما