صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 315
۳۱۵ ۶۵ کتاب التفسير / الأعراف صحيح البخاری جلد ۱ ۱۰ ۲۰ - طَائِرُهُمْ کے معنی ہیں حَظهُمْ وَ نَصِيبُهُمْ یعنی ان کا حصہ اور ان کا نصیب۔طائر کے یہ معنی ابو عبیدہ سے منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۹) فرماتا ہے: فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَذِهِ ۚ وَإِنْ تُصِبْهُم سَيِّئَةُ تَطَيَّرُوا بِمُوسَى وَ مَنْ مَّعَهُ أَلَا إِنَّمَا ظَهِرُهُمْ عِندَ اللهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) (الأعراف: ۱۳۲) پس جب ان پر خوشحالی کا زمانہ آتا تو وہ کہتے یہ تو ہمارا حق ہے اور اگر ان پر مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست کا نتیجہ سمجھتے۔خبر دار ان کی نحوست ( کا سامان) اللہ کے پاس محفوظ ہے۔لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔۲۱ - الطوفان کے معنی ہیں سیلاب، کثرت موت کو بھی طوفان کہتے ہیں۔ابو عبیدہ نے دونوں مفہوم بیان کئے ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۹) فرماتا ہے: فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقَمَلَ وَالضَّفَادِعَ وَاللَّهُ ایت مفصلتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ (الأعراف: ۱۳۴) تب ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون بھیجا۔( یہ ) الگ الگ نشان ( تھے) تب بھی اُنہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم بن گئے۔مذکورہ بالا الہی سزاؤں کا ذکر خروج باب ۷: ۲۱، باب ۸: ۶ ، باب ۹: ۱۷، باب ۱۳:۱۰، باب ۱۱: ۴ تا ۷ میں دیکھئے۔-۲۲ - القُمَّل کے معنوں میں اختلاف ہوا ہے کیسی نے جو میں کسی نے کھٹمل اور کسی نے سر سری (سری) کئے ہیں۔جو گندم کا گودا کھا جاتی ہے بعض نے ٹڈی دل جو فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔خروج باب ۱۰: ۱۲ تا ۱۵ میں ٹڈی ہی قف مذکور ہے۔-۲۳ - محروش جمع ہے عرش کی، بمعنی بنا یعنی عمارت ابوعبیدہ نے سورۃ الاعراف کی آیت وَمَا كَانُوا يَعرِشُونَ کے معنی وَ مَا كَانُوا يَبْنَؤُنَ کئے ہیں۔یعنی جو عمارتیں وہ بناتے تھے۔فرماتا ہے: وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ (الأعراف: (۱۳۸) اور فرعون اور اس کی قوم جو کچھ بنا رہے تھے اور جو بلند عمارتیں کھڑی کر رہے تھے اُن سب کو ہم نے توڑ دیا۔۲۴- سُقط کے معنی ہیں پشیمان ہوا۔کہا جاتا ہے: سُقط في يَدِهِ ابو عبیدہ کے نزدیک یہ محاورہ نہ صرف بہت ندامت و پشیمانی کے مفہوم میں ہے بلکہ کسی کام سے عاجز آنے پر بھی دلالت کرتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۰) اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۱۵۰ میں فرماتا ہے : وَلَمَّا سُقِطَ فِي ايْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَبِنْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرُ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ ) اور جب وہ شرمندہ ہو گئے اور اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ گمراہی میں پڑ گئے تھے تو انہوں نے کہا: اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے گا اور ہمیں معاف نہ کرے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔خروج باب ۳۲ میں قوم موسیٰ کی گمراہی اور آپ کی ہدایات کی پابندی نہ کرنے کا ذکر ہے۔لیکن اس میں حضرت ہارون علیہ السلام کو مطعون کیا ہے۔قرآن مجید نے ان کی برکت کا اظہار فرمایا ہے۔خروج باب ۳۳ ۳۴ میں بنی اسرائیل کے رجوع بحق اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے استغفار و دعا کا ذکر کسی قدر پایا جاتا ہے۔کتاب احادیث الانبیاء باب ۲۹ میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے۔