صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 314
۶۵ - كتاب التفسير /الأعراف صحیح البخاری جلد ۱۰ پاتا ہے۔جیسے آنکھ ، کان، نتھنے اور منہ وغیرہ اور اسی سے مسامات جسم کا لفظ ہے۔یعنی وہ سوراخ جہاں سے پسینہ نکلتا ہے۔سکم الخیاط کے معنی ہیں سوئی کا ناکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۴۱ میں فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تَفَتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمَ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ ) ترجمہ : وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ہے، اُن کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہو اور ہم مجرموں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔-۱۲ غواش جمع ہے غاشیہ کی یعنی اوڑھنا۔اگلی آیت میں فرماتا ہے: لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشِ ، وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ) (الأعراف: ۴۲) ترجمہ: ان کے لئے چھونا بھی جہنم ہی سے ہو گا اور ان کے اوپر بھی اوڑھنے اس (جہنم) ہی میں سے ہوں گے اور اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں۔ابو عبیدہ سے غواش کے مذکورہ بالا معنی مروی ہیں اور محمد بن کعب سے مِهَادُ کے معنی بچھونا اور غواس کے معنی لحاف منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۷۹) ۱۷ - نُشُرًا کے معنی ہیں مُتَفَرِقَةً، يُنَشِّرُ رَحْمَتَهُ یعنی وہ اپنی رحمت چاروں اطراف عالم میں پھیلاتا ہے۔۱۸ - نگدا کے معنی ہیں قلِيلا یعنی تھوڑا۔فرماتا ہے: وَالْبَلدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدًا كَذلِكَ نُصَرِفُ الْأَنْتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ (الأعراف: ۵۹) ترجمہ : اور اچھا ملک (جس کی مٹی عمدہ ہو ) اس کی روئیدگی اپنے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور وہ (ملک) جس کی مٹی خراب ہو اس کی پیداوار رڈی ہی نکلتی ہے۔اس طرح ہم شکر گزار قوم کے لئے ( اپنے ) نشانات کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ایک عربی شاعر کہتا ہے: لَا تُنْجِزِ الْوَعْدَ إِنْ وَعَدْتَ وَإِنْ أَعْطَيْتَ أَعْطَيْت تَافِها نَكِدًا تو وعدہ پورا نہیں کرتا، اگر وعدہ کرے اور اگر دے تو بہت معمولی شے تھوڑی سی دیتا ہے۔نگدا کے معنی ہیں ایسی تھوڑی شے جو کسی کام کی نہ ہو ، ناکارہ۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۹) يَغْنوا کے معنی ہیں يَعِيشُوا یعنی وہ زندہ رہے۔فرماتا ہے: الَّذِينَ كَذَبُوا شُعَيْبًا كَانَ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُواهُمُ الخيرينَ ) (الأعراف: ۹۳) وہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا (ایسے تباہ ہوئے کہ ) گویا وہ کبھی اپنے ملک میں بسے ہی نہیں تھے، وہ جنہوں نے شعیب کو جھلا یا تھاوہ گھانا پانے والوں میں سے ہو گئے۔19 - حقیق کے معنی ہیں حقی یعنی واجب ہے۔فرماتا ہے: حقیق عَلَى أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقِّ قَدْ جنتكم بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ (الأعراف: ۱۰۲) ترجمہ: اور اس بات کا حق دار ہوں کہ اللہ کے متعلق سوائے سچی بات کے کچھ نہ کہوں۔میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلا نشان لے کر آیا ہوں۔پس میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔