صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 313
صحيح البخاری جلد ۱ ۱۰ ٣١٣ ۶۵ کتاب التفسير / الأعراف آیت میں اس سے مراد يَوْمُ الْقِيَامَة ہے۔پوری آیت یہ ہے: قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعٌ إِلى حِينِ (الأعراف: (۲۵) ترجمہ : ( تب اللہ نے) فرمایا: تم سب کے سب یہاں سے چلے جاؤ۔تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے اسی زمین میں ٹھکانا ہو گا اور کچھ مدت تک فائدہ اُٹھانا ( مقدر) ہو گا۔بموجب تشریح مذکور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت تک تمہیں اسی زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہو گا۔چنانچہ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ عداوتوں کی باہمی کشمکش ہی میں زمین میں ہمارا قیام ہے اور ہم کائنات ارضی سے وسیع پیمانہ پر استفادہ کرتے چلے آئے ہیں۔خوراک میں، پوشاک میں اور انواع و اقسام کے سامان آسائش و زیبائش میں۔ریاش اور دیش کے معنی ایک ہی ہے۔یعنی ظاہر کی زیب وزینت۔۱۳ - قبیلہ کے معنی ہیں چیلهُ الَّذِي هُوَ مِنْهُوَ یعنی اس کے ہم جنس، اس کا خاندان جن میں سے وہ ہے یہ شرح ابو عبیدہ کی ہے اور ابن جریر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ جن و شیطان ایک ہی جنس ہیں۔لے سکتاب بدء الخلق میں بھی یہ مضمون تفصیل سے گذر چکا ہے۔(دیکھئے کتاب بدء الخلق باب (۱۱) اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۲۸ میں فرماتا ہے: لِبَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطنُ كَمَا اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَواتِهِمَا إِنَّهُ يَريكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيطِيْنَ اَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ 0 ترجمه : اے آدم کے بیٹو! شیطان تم کو ( اللہ کی راہ سے ) بہکا نہ دے۔جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکالا تھا۔ان دونوں سے ان کا لباس اس نے چھین لیا تھا۔تا کہ ان پر ان کی چھپانے والی چیزیں ظاہر کر دے۔وہ اور اس کا قبیلہ تم کو وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھتے۔ہم نے شیطانوں کو کافروں کا دوست بنایا ہے۔قبیله۔۔۔مِنْهُم یعنی شیطان کا قبیلہ خود بنی نوع آدم ہی میں سے ہوتا ہے۔آیت کا آخری حصہ بھی اس مفہوم کی تائید کرتا ہے۔۱۴ - ادارکوا کے معنی ہیں اجْتَمَعُوا یعنی اکٹھے ہو گئے۔قَالَ ادْخُلُوا فِي أَمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةً لَعَنَتْ أَخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَبُهُمْ لِأُولَهُمُ ربنا هؤلاء أَضَلُّونَا فَأَتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِحْلِ ضِعُفُ وَ لكِنْ لا تَعْلَمُونَ (الأعراف: (٣٩) یعنی ( تب اللہ اُن سے ) کہے گا: جاؤ جا کر آگ میں ان امتوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکی ہیں۔جب کوئی قوم (آگ میں ) داخل ہو گی تو (اپنے سے پہلی ) بہن ( یعنی قوم) کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جب سب اس (آگ) میں داخل ہو چکیں گے تو ان میں سے آخری ( داخل ہونے والی جماعت) اپنے سے پہلی کے متعلق کہے گی۔اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا۔پس تو ان کو دوزخ میں کئی گنا زیادہ عذاب دے۔(اس پر وہ) فرمائے گا: سب کو ہی زیادہ عذاب مل رہا ہے لیکن تم جانتے نہیں۔-۱۵ سھر کے معنی ہیں سوراخ، اس کی جمع سموم ہے۔یہ لفظ انسان و حیوان کے سوراخوں پر بھی اطلاق (جامع البيان للطبرى تفسير سورة الأعراف آيت إنَّه يُريكُم هُوَ وَقَبِيلُه ، جزء ۱۰ صفحه ۱۳۶)