صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 312 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 312

صحيح البخاری جلد ۱ ۳۱۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف میں ایسی ہی آیات کو نمایاں کیا ہے جو حضرت آدم السلام کے مناسب اور غیر مناسب کے درمیان تمیز سے متعلق ہیں۔11- سواتهما: اس میں اشارہ ہے ان کی شرم گاہوں کی طرف، یہ لفظ سورة الأعراف آیت نمبر ۲۳ میں آیا ہے اور اس سے شیطانی وجود اور اس کی وسوسہ اندازی کی علت غائی کا پتہ چلتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ لِيُبْدِى لَهُمَا مَاوِرِى عَنْهُمَا مِنْ سَوَاتِهما (الأعراف: ۲۱) شیطان نے ان کے دل میں وسوسے ڈالے تاجو بدی ان دونوں سے پنہاں ہے وہ ان پر ظاہر ہو جائے۔امام بخاری نے لفظ سوانا کو ننگ بدن سے مخصوص کیا ہے۔کیونکہ اس سورۃ کی آیت ۲۷ میں اللہ تعالیٰ بنی آدم کو مخاطب کرتا اور فرماتا ہے : لِبَنِی آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوَاتِكُمْ وَرِينَا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرُ - ذَلِكَ مِنْ أَيَتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذْكُرُونَ (الأعراف: ۲۷) اے آدم کی اولاد! ہم نے تمہارے لئے ایک ایسالباس پیدا کیا ہے جو تمہاری چھپانے والی جگہوں کو چھپاتا ہے اور زینت ( کا موجب ) بھی ہے اور تقویٰ کا لباس (تو) سب سے بہتر لباس ہے۔یہ (لباس کا حکم ) اللہ کے احکام سے ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔آیت نمبر ۲۳ میں ہے کہ اُنہوں نے ممنوعہ درخت کا پھل مزے سے کھایا۔بَدَتْ لَهُمَا سَواتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِف عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ (الأعراف:۲۳) اس آیت کی تشریح ابھی گزر چکی ہے اور اس کا سیاق امام موصوف کے معنی کی تائید کرتا ہے ورنہ لفظ سوا لغت عربی میں ہر اس عیب پر اطلاق پاتا ہے، جس کی ستر پوشی کے لئے لباس التقویٰ نازل کیا گیا ہے۔نزول کے لفظ سے غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ آسمان سے ستر پوشی اور زینت کا سامان نازل ہوا ہے جو بظاہر خلاف واقعہ ہے۔بلکہ ہر نعمت الہی بوجہ القاء ربانی و الہام لفظ نزول سے تعبیر کی گئی ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (الحدید: ۲۶) اور ہم نے لوہا بھی اُتارا جس میں سخت جنگ کا سامان ہے اور لوگوں کے لیے کئی فوائد ہیں۔لوہے سے جس قدر سخت سے سخت اور اعلیٰ سے اعلیٰ فائدہ اٹھانے میں جتنی ترقی ہوئی ہے وہ سب الہام سے ہوئی ہے۔عمدہ خیال کا سوچنا اور سوچ و بچار سے کسی اچھی تجویز و تدبیر کا ذہن میں آنا بھی الہام ہی کہلاتا ہے۔سیب کے گرنے سے نیوٹن کو اچانک کشش ثقل کا خیال پیدا ہوا جو آخر ایک بڑے علم اور فنون کی بنیاد ثابت ہوا ہے۔اسی طرح لباس کے ابتدائی خیال سے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذہن میں پیدا ہوا اور نگ ڈھانپنے کی ضرورت محسوس ہوئی، یہی شعور آخر اعلیٰ سے اعلیٰ پوشاک کا باعث بنا۔اس نعمت ربانی کو لفظ آنز لنا سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔انہی معنوں میں یہ آیت بھی ہے : قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرَانِ رَّسُورًا يتلوا عَلَيْكُمْ آیتِ اللهِ مُبَيِّنت (الطلاق: ۱۲،۱۱) یقیناً اللہ نے نصیحت و یاد دہانی کی غرض سے تمہاری طرف ایک رسول نازل کیا ہے جو تم کو اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات سناتا ہے جو ( نیکی و بدی کو) کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔-١ مَتَاعُ إِلى حِيْنِ : حِيْن کے معنی مطلق وقت کے ہیں لیکن عنوان باب میں بتایا گیا ہے کہ مشار الیہا -۱۲ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " اُن کی کمزوریاں اُن پر ظاہر ہو گئیں اور وہ دونوں جنت کے پٹھوں میں سے کچھ اپنے اوپر اوڑھنے لگے۔“