صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 311
٣١١ صحيح البخاری جلد ۱ ۱۰ -۶۵ کتاب التفسير / الأعراف جبکہ آدمی کی غذا وغیرہ کا دارو مدار درختوں کے پھلوں پر تھا اور انہی کی شاخوں پتوں اور اس کے گھنے سایوں میں اس کا بسیرا اور اس کی بود و باش اور انہی سے اس کی زیست کے سامان مہیا ہوتے تھے۔حضرت آدم علیہ السلام شرک کے قلع قمع اور توحید کی دعوت کے لئے مامور تھے اور جہاں اور احکام اُنہیں ملے ، انہیں (لَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةُ ) ایک معین درخت کے نزدیک جانے سے منع کر دیا گیا فتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِینَ کے فقرے سے متعین ہو جاتا ہے کہ یہ خاص درخت وہ تھا جسے مشرکین نے اپنا رب (معبود) سمجھا ہوا تھا۔شیطان نے وسوسہ اندازی کی کہ اس کے قریب جانے کی ممانعت ہے، پھل کھانے کی ممانعت نہیں۔کتاب پیدائش میں شیطان کو سانپ و دشمن کے نام سے مجازاً و تشبیہاً تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے متعلق یہی ذکر ہے کہ اس نے اس کے پھل کھانے کی تحریص دلائی۔شیطانی وسوسہ اندازی سے ہم خود کئی دفعہ احکام شریعت کا اصلی مقصود نظر انداز کر دیتے ہیں۔سورۃ طلا آیت نمبر ۱۱۶ میں حضرت آدم علیہ السلام کی بریت کی گئی ہے کہ انہوں نے عمد احکم عدولی نہیں کی، بلکہ منشاء الہی بھول گئے۔وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى ادم مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَكَ عَزْماں اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کا ذمہ دار قرار دیا تھاتو وہ بھول گئے اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ حکم عدولی کا ارادہ نہیں تھا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو صرف ایک ہی حکم دیا گیا تھا تو وہ بھول کیسے گئے۔ایک حکم کے ذکر سے ضروری نہیں کہ اور احکام نہ دیئے گئے ہوں۔ظالم و مشرک قوم سے جو اُن کا شدید مقابلہ تھا اس کے حالات کا بھی ہمیں علم نہیں۔علاوہ ازیں ان کے توبہ کرنے سے نتیجہ نکالنا کہ ان کا گناہ اسی قسم کا سنگین گناہ تھا جیسے عامۃ الناس کا ہوتا ہے، یہ غلط قیاس ہے۔کیونکہ گناہ کی نوعیت ازدیاد علم و عرفان سے بدل جاتی ہے اور اس کے متعلق احساس بھی لطیف سے لطیف تر ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظر میں بعض وقت ایک بات جو نیک سمجھی جاتی ہے وہ عارف کی نظر میں گناہ ہوتا ہے۔اموال پر حسب نصاب زکوۃ نکالنا نیکی ہے لیکن عارف کے نزدیک بمقدار نصاب اموال جمع کر رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا گناہ متصور ہوتا ہے۔پس حکم عدولی کا خیال نہ ہونا اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کا نادم ہونا اور توبہ و استغفار کرنا تو ان کے ترقی پذیر وبلند عرفان پر دلالت کرتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح حال کے لئے وہ ذمہ وار ٹھہرائے گئے تھے اور ان کی ذمہ واری اور جو ابد ہی اتنی بڑی تھی کہ ان سے انتہائی احتیاط کی متقاضی تھی۔مذکوره بالا استدلال تاریخی واقعات عالم کی بناء پر ہے اور شجر پرستی کے آثار ہر ملک میں اب تک پائے جاتے ہیں۔صحف عہد قدیم کے بیانات اس بارے میں ناقابل فہم ہیں، سوا اس کے کہ استعارات و مجاز پر محمول کر کے تأویل سے کام لیا جائے۔قرآن کے بیان میں اختصار ہے اور حضرت آدم کی ابتدائی حالت اور ان کے وقت میں دیگر مشرکین کا پایا جانا اور حضرت آدمؑ کی دعوت توحید پر ان کا بگڑنا اور مخالفت پر آمادہ ہونا حتی کہ ان کی ہجرت بھی، ایک طبعی معقول امر ہے۔جس کا مشاہدہ ہم ہر زمانہ میں کرتے چلے آئے ہیں۔قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (الأعراف: ۲۵) یہ حکم ہجرت سے متعلق ہے اور اس حکم سے ظاہر ہے کہ آدم کے سوا اور لوگ بھی تھے جو اُن کے دشمن تھے ، جن سے کنارہ کشی کا حکم ہوا۔قرآن مجید نے عہد قدیم کا قصہ بابت حوا بھی بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔بجر يَخْصِفنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ (الأعراف: ۲۳) کے ، جو ترقی یافتہ شعور پر دلالت کرتا ہے۔امام بخاری نے سورۃ الاعراف کی تفسیر