صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 310
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف مِنْهُ ۚ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (الأعراف: ۱۲، (۱۳) اور ہم نے تمہیں (پہلے مہم شکل میں ) پیدا کیا تھا۔ جس کے بعد تم کو ( تمہارے مناسب حال ) صورتیں بخشی تھیں۔ پھر ملائکہ سے کہا تھا کہ آدم کی اطاعت کرو۔ اس پر فرشتوں نے تو (آدم کی ) اطاعت کی مگر ابلیس ( نے نہ کی۔) وہ اطاعت گزاروں میں سے نہیں بنا۔ (اس پر خدا نے اس سے ) کہا کہ میرے حکم کے باوجود تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو اس (آدم) سے بہتر ہوں۔ تو نے میری فطرت میں آگ رکھی ہے اور اس کی فطرت میں گیلی مٹی کی صفت رکھی ہے۔ سورۃ الاعراف کی مذکورہ بالا آیت میں مَا مَنَعَكَ اَلا تَسْجُدَ ہے اور یہی مضمون دوسری جگہ ان تسجد کے الفاظ میں بغیر لام سے بیان کیا گیا ہے : قَالَ يَابْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَى اسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (ص: ۷۶) ترجمہ : (اللہ نے فرمایا: اے ابلیس اتجھے کس نے اس بات سے روکا کہ جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا تھا اس کی فرمانبرداری کرتا۔ کیا تو نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا، یا تو واقعہ میں یا تو واقعہ میں میرے حکم ماننے سے بالا ہے۔ اسی آیت کے حوالے سے سورۃ الاعراف والی آیت کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ ١٠- طَفِقَا يَخْصِفْنِ: اُن دونوں نے باغ کے پتوں کو لیا اور ایک دوسرے سے مل کر اُن سے اپنا ننگ ڈھانپنے لگے۔ پوری آیت یہ ہے: فَكَالهُم قد الهُمَا بِغُرُورٍ ، فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوَاتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفْنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَلَهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ أَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مبِينٌ (الأعراف: (۲۳) ترجمہ : پھر ان دونوں کو دھوکہ دے کر اپنے مقام سے ہٹا دیا پھر جب ان دونوں نے اس ( ممنوعہ ) درخت سے (کچھ) چکھ لیا۔ تو ان کے ننگ اُن پر ظاہر ہو گئے اور وہ لگے جنت کی زینت کے سامانوں کو اپنے او پر چمٹانے اور ان دونوں کو ان کے رب نے بلایا اور کہا) کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا کھلا دشمن ہے۔ کتاب پیدائش باب ۲ : ۸ تا ۲۵ اور باب ۳ میں آدم و حوا کی پیدائش سے متعلق ایک طویل قصہ بیان کیا گیا ہے جو استعارات و مجاز کے پیرایہ میں معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں وہ نظر انداز ہے اور بدی و نیکی کا وہ ممنوعہ درخت جو ما بہ النزاع ہے، اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے : وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ (الأعراف: ۲۰) اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔ ظالم کی اصطلاح سے علی الاطلاق قرآن مجید میں مشرک مراد ہیں۔ الفاظ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ ( الأعراف : (۲) اور فَدَلْهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ (الأعراف: ۲۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے وسوسہ اندازی سے (جیسا کہ حکم عدولی پر آمادہ کرنے میں اس کا عام طریق ہے ) انہیں پھل کھانے کی ترغیب دی۔ کیونکہ قریب نہ جانے کا حکم اس کے پھل نہ کھانے کو مستلزم نہیں۔ لیکن شریعت ایک اچھی بات سے بعض حالات میں روک دیتی ہے تا شرک وغیرہ کی طرف قوم عود نہ کرے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز سے روک دیا ہے۔ مبادا اس راہ سے سورج پرستی کا سابقہ میلان ابھر آئے۔ قدیم ترین زمانے میں آفتاب و مہتاب اور عناصر پرستی کے علاوہ شجر پرستی کا عام رواج تھا۔