صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 309
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۰۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف تتبيرا (بنی اسرائیل : ۸) ترجمہ : پھر جب دوسری بار والا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا تا کہ وہ (یعنی تمہارے دشمن ) تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور (اسی طرح) مسجد میں داخل ہوں جس طرح وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے بالکل تباہ (اور برباد کر کے رکھ دیں۔ (تو یہ بات بھی پوری ہو گئی اور دیکھئے: وَعَادًا وَ ثَمُودَا وَ أَصْحِبَ الرَّسِ وَ قُرُونَا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَثْبِيرًا ( الفرقان: ۳۹، ۴۰) ترجمہ : اور عاد کو بھی اور ثمود کو بھی اور کنوئیں والے لوگوں کو بھی اور ان کے در میان اور بہت سی قوموں کو بھی (ہم نے تباہ کر دیا ) اور ان میں سے ہر قوم کے لئے ہم نے حقیقت بیان کر دی اور جب نہ سمجھے تو سب کو ہلاک کر دیا۔ صحیح بخاری میں اس کے معنی خسارہ کئے گئے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی محولہ بالا آیت کا مفہوم یہی ہے کہ ان کا ساختہ پر داختہ تباہ ہو گا، کیا کرایا اکارت جائے گا۔ جس واقعہ کا ذکر محولہ بالا آیت سے ما قبل آیت میں ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لئے بھی ایسے معبود تجویز کریں جیسے ان لوگوں کے ہیں۔ (الاعراف: ۱۳۹) یہ شامی و فلسطینی بت پرست قومیں تھیں۔ اس کا ذکر کتاب خروج باب ۱:۳۲ میں بھی ہے، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے بت بنانے کا ذکر ہے، جس سے قرآن مجید نے ان کی بریت فرمائی ہے اور سامری کو ملزم قرار دیا ہے۔ اس کا ذکر تفصیل سے سورۃ الاعراف کی آیات ۱۳۹ تا ۱۵۴ میں ہے۔ الی کے معنی ہیں أَحْزَن یعنی میں غمگین ہوں، مجھے افسوس ہے۔ یہ اسی سے ہے یعنی تکلیف دہ بات، برائی۔ لفظ انہی سورۃ الاعراف میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يُقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمُ رسلتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ فَكَيْفَ الى عَلَى قَوْمٍ كَفِرِينَ (الأعراف: ۹۴) ترجمہ : اس پر وہ (شعیب) ان سے پیٹھ پھیر کر چل دیے اور کہتے گئے: اے میری قوم ! میں نے اپنے رب کے پیغام تم کو پہنچا دئے تھے اور تم کو نصیحت کر دی تھی۔ پس اب میں منکر قوم پر کس طرح افسوس کروں۔ لَا تَأْسَ : لَا تَحْزَن تو مگه تو غمگین نہ ہو ، افسوس نہ کر، سورۃ المائدہ آیت نمبر ۲۷ میں اللہ تعہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے : فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ ۔ پس تو باغی قوم پر افسوس نہ کر اور اسی سورۃ کی آیت نمبر ۶۹ میں فرماتا ہے : اے اہل کتاب ! تم کچھ بھی نہیں تا وقتیکہ تم تورات و انجیل پر راستی سے قائم نہیں ہوتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: یہ سرکشی اور کفر میں بڑھیں گے۔ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ۔ پس تو اس کا فر قوم پر افسوس نہ کر۔ ان کے ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کے دعوے سب باطل اور بے سود ہیں۔ مذکورہ بالا حوالوں سے سورۃ الاعراف کا مضمون نمایاں کیا گیا ہے۔ ٩- مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ : یہ خطاب شیطان سے ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ کہ مجھے سجدے سے کے سے کس بات نے روکا ہے۔ دو دون نفی جمع ہوں تو مفہوم مثبت ہوتا ہے۔ لفظی ترجمہ یہ ہے : کس بات نے تجھے روکا ہے کہ تو سجدہ نہ کرے۔ پوری آیت مع سیاق یہ ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرَنَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلِيكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّجِدِينَ ، قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ