صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 308
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۰۸ ۶۵ کتاب التفسير / الأعراف ۵- نَتَقْنَا الْجَبَلَ کے معنی ہیں دَفَعْنَا یعنی ہم نے پہاڑ کو بلند کیا۔پوری آیت یہ ہے: وَ اِذْ نَتَقنَا الْجَبَل فَوْقَهُمْ كَانَكَ ظُلَةٌ وَظَنُّوا اَنَهُ وَاقِع بِهِمْ خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمُ بِقُوَّةٍ وَ اذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (الأعراف: ۱۷۲) ترجمہ : اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا، گویا کہ وہ ایک سائبان تھا اور اُنہوں نے خیال کیا کہ وہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے ( اور ہم نے کہا) جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اسے قوت سے پکڑ لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یادر کھوتا کہ تم متقی بن جاؤ۔نتَقَ الشَّبی کے معنی ہیں زَعْزَعَه یعنی چیز ہلائی ، اسے حرکت دی۔نتق اللهُ الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ کے معنی ہیں رفعه (اقرب الموارد - نتق) یعنی اللہ نے پہاڑ کو اُن کے اوپر بلند کیا۔یہاں رفعت معنوی مراد ہے۔یعنی قوم موسیٰ اس کے دامن میں تھی اور وہ سائبان کی طرح اُن پر بلند تھا۔پہاڑوں کے سیاح اس کا باآسانی تصور کر سکتے ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے خروج باب ۱۹: ۱۷ تا ۲۱۔سورہ البقرۃ آیت ۶۴ میں وَ إِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ کی جگہ وَ رَفَعْنَا فَوقَكُم الظور ہے۔۶ - انبجست کے معنی ہیں۔انفجرت یعنی پھوٹ پڑی۔پوری آیت یہ ہے: وَقَطَعْنَهُمُ اثْنَتَى عَشَرَةَ اسْبَاطًا أَمَمَّا وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوْلَى إِذِ اسْتَسْقُهُ قَوْمُةٌ أَنِ اضْرِبُ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَالْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أَنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ وَظَلَلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَام وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ المَنَ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (الأعراف: (۱۶) اور ہم نے ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا۔(جو اب ترقی کر کے قومیں بن گئے ہیں) اور ہم نے موسیٰ کی طرف جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا، وحی کی کہ (جا اور ) اپنا سو نٹا ( فلاں ) پتھر پر مار۔( جب اس نے ایسا کیا ) تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ہر قوم نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے ان کے لئے ترنجبین اور بٹیر پیدا کئے (اور کہا) کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے (اس میں سے ) طیب چیزیں کھاؤ اور اُنہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا۔بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔مذکورہ دونوں آیتیں (الاعراف: ۱۶۱، الاعراف: ۱۷۲) کتاب آحادیث الانبیاء باب ۲۵ میں بھی دہرائی گئی ہیں۔اس تعلق میں خروج باب ۲۷:۱۵ بھی دیکھئے جہاں ایلیم میں بارہ چشموں کا ذکر ہے۔اضْرِبُ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ (الأعراف: ۱۶۱) کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی جماعت کے ساتھ پہاڑی علاقے میں سفر کر۔سفر کے اثناء میں بنی اسرائیل کے بار بار پانی و خوراک طلب کرنے کا ذکر خروج باب ۱۶ء ۱۷ میں بھی ہے۔قرآن مجید میں ان کے مطالبے کا ذکر سورۃ البقرۃ ۵۹، ۶۲ میں بھی کیا گیا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء حاصل کرنے کے لئے جس شہر میں داخل ہونے کا اُن سے کہا گیا ہے اس کا ذکر گفتی باب ۳۳: ۵۱ تا ۵۵ میں دیکھئے۔کو متبر: فرماتا ہے ان هَؤُلَا مُتَبَرُ مَا هُمْ فِيهِ وَبْطِلُّ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (الأعراف :۱۴۰) ترجمہ : جس کام میں وہ لگے ہوئے ہیں وہ یقینا تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب بے کار جائے گا۔لفظ متَبر اسم مفعول ہے تشہیر مصدر سے، یعنی تباہ و خستہ حال کر دینا۔یہ لفظ قرآن مجید میں ان معنوں میں کئی جگہ وارد ہوا ہے۔دیکھئے فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيَتَبِرُوا مَا عَلَوا