صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 307
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف جذبات خشوع و خضوع کے ساتھ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: تم سمیع و قریب کو سنا رہے ہوتے ہو کسی بہرے سے مخاطب نہیں ہوتے کہ اس کے لئے آوازیں بلند کی جائیں۔اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رازداری کی کیفیت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: لِي مَعَ اللهِ وَقت لَا يَسَعُنِي فِيهِ مَلَكَ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِيُّ مُرْسَل (فيض القدير ) مجھے خدا کے حضور ایک ایسی گھڑی نصیب ہے ، جس تک کسی مقرب فرشتے یا مرسل نبی کو رسائی نہیں۔-۳- عَفُوا کے معنی ہیں گھر وا یعنی بڑھ گئے تعداد میں اور مال و دولت اور آسائش میں۔پوری آیت یہ ہے: ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّى عَفَوا وَ قَالُوا قَد مَسَّ بَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَاءُ فَأَخَذْ نَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الأعراف: (۹۶) ترجمہ: پھر ہم نے تکلیف کی جگہ سہولت کو بدل دیا۔یہاں تک کہ جب وہ ترقی کر گئے اور کہنے لگے کہ تکلیفیں اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی آیا کرتے تھے۔(اگر ہمیں آئے تو کوئی نئی بات نہیں) پس ہم نے ان کو اچانک ( عذاب سے) پکڑ لیا اور وہ سمجھتے نہ تھے (کہ ایسا کیوں ہوا۔) اس آیت کا سیاق کلام یہ ہے کہ آرام و راحت کے سامان میسر آنے اور ترقی پانے پر انسان اپنے رب سے غافل ہو جاتا اور حدود سے تجاوز کرتا ہے اور سنت الہی کے مطابق اس سے مواخذہ ہوتا ہے۔اس بار بار کے مشاہدہ سے ظاہر ہے کہ انسان مطلق العنان نہیں۔بلکہ اپنے خالق کے سامنے جواب دہ ہے۔ہمارے زمانے کے حالات بھی اسی سنت الہی کے متقاضی ہیں۔جیسا کہ نذیر ربانی نے کھلے الفاظ میں غفلت میں پڑے لوگوں کو بار بار تنبیہ کر کے تبلیغ وانذار کا حق ادا کر دیا ہے۔-۴- الْفَتَاحُ کے معنی ہیں الْقَاضِي یعنی فیصلہ کرنے والا۔فیصلہ کرنے کے معنوں میں دعا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ (الأعراف: ۹۰) ہے۔اس آیت کا سیاق یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو جب قوم کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ تم ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آؤ۔ورنہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے تو انہوں نے جواب میں مطالبہ کرنے والوں کو مایوس کیا اور کہا: عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ انْتَ خَيْرُ الفيحِينَ (الأعراف: ۹۰) ترجمہ : ہم اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔افتح کے معنی ہیں احكم (فیصلہ کر) ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ اس کی تائید میں شاعر کے اس قول کا حوالہ دیا گیا ہے: ألا أبلغ بَنِي عَصْمٍ رَسُولًا فَإِنِّي عَنْ فَتَاحَتِكُمْ غَنِيٌّ غور سے سنو اپنی عصم کی طرف میرا پیغام پہنچا دو کہ میں تمہارے فیصلے سے بے پروا ہوں۔حضرت ابن عباس سے بھی افتح کے معنی اقضِ منقول ہیں۔ان سے روایت ہے کہ مجھے افتح بَيْنَنَا کا مفہوم سمجھ نہیں آتا تھا۔یہاں تک کہ ذی یزن کی بیٹی کو اپنے خاوند سے یہ کہتے سنا: انْطَلِقُ أُفَاتِخت چلو میں تم سے فیصلہ کروں۔یعنی بذریعہ قاضی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۷۹) (بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خيبر، روایت نمبر ۴۲۰۵) (فيض القدير شرح الجامع الصغير ، حرف الراء، شرح روایت: رأيت ربي عز و جل جزء ۴ صفحه ۶)