صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 306 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 306

صحیح البخاری جلد ۱۰ سم ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف چالیس کے قریب الفاظ کی شرح بطور تمہید نقل کی ہے، جس سے سورۃ الاعراف کے موضوع کا علم ہوتا ہے۔اس کے بیشتر حصے کا تعلق حضرت آدم اور ان کی رفیقہ حیات، شیطان کی آزمائش اور بنی اسرائیل کے کردار سے ہے۔ذیل میں پہلے مذکورہ الفاظ کی شرح پورے بسط کے ساتھ نقل کی جاتی ہے۔ا - وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ - وَرِيْشًا اَلْمَالُ : رِیس اور ریاس کے معنی میں جہاں ان سے مال منقول ہیں، وہاں عیش و نعیم بھی مروی ہیں۔ابو عبیدہ نے رِبَاش کے معنی الخصب في المَعاش کیے ہیں۔یعنی فراوانی و آسودگی معاش، تر و تازگی معیشت، بہت مال و دولت ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۷۷) لفظ ریش و رِيَاش ان سب معانی پرمشتمل ہے۔پرندے کے بال و پر بھی ریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ وہ اس کی خوبصورتی و رونق کا باعث ہوتے ہیں۔٢ - إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ: حد سے گزرنے والوں سے وہ محبت نہیں رکھتا۔دعا میں آیت کا یہ مفہوم حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔لیکن امام احمد بن حنبل اور ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی حدیث میں اسے مرفوعا نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو (بلند آواز سے ) دعا کرتے سنا تو انہوں نے اس سے کہا: إنّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمُ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يعنى إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔۔یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ ایک ایسی قوم ہو گی جو دعا کرنے میں حد سے تجاوز کرے گی۔اور انہوں نے یہ آیت پڑھی کہ یقینا وہ حد سے گذرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ابن ماجہ نے بھی حضرت عبد اللہ بن مغفل سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے۔غرض دعا میں اختیدا (حد سے بڑھنا) یہی ہے کہ بلند آواز سے کی جائے یا ضرورت سے زیادہ یا ناممکن مطالبات کئے جائیں۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے سنا: اللهم إني أَسَالُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الجنة۔یعنی اے اللہ میں جنت کی دائیں جانب سپید محل تجھ سے مانگتا ہوں تو انہوں نے اس سے روکا اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دعا کرنے کو نا پسند فرمایا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۸) محولہ بالا آیت یہ ہے: أدعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ (الأعراف: ۵۷،۵۶) ترجمہ: تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر بھی اور چپکے چپکے بھی پکارو۔یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو اور اس (خدا) کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارو۔اللہ کی رحمت یقینا محسنوں کے قریب ہے۔اسلام نے میانہ روی ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔حتی کہ عبادت و دعا وغیرہ جیسے نیک اعمال میں بھی مجلسیں محفلیں قائم کر کے اونچی اونچی آواز سے جو دعائیں تسبیح الفاظ میں پڑھی جاتی ہیں، یا سر ڈھنے کے ساتھ ذکر اذکار کیا جاتا ہے، یہ سب بدعات ہیں اور منشاء شریعت کے خلاف بھی۔دعا تو درحقیقت وہ ہے جو رقت قلب اور (مسند احمد بن حنبل، مسند سعد بن ابی وقاص، جزء اول صفحہ ۱۷۲) سنن ابی داؤد، ابواب الوتر، باب الدعا) (سنن ابن ماجه، کتاب الدعاء باب كراهية الاعتداء فى الدعا)