صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 305 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 305

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف فَأَتْهُمُ اللهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا معنی ہیں بیٹھ رہا اور پیچھے ہٹ گیا۔ سَنَسْتَدْرِجُهُم (الحشر: ٣) ۔ مِنْ جِنَّة (الأعراف: ١٨٥) مِنْ کے معنی ہیں ہم ان کے پاس اس طرف سے جُنُونٍ أَيَّانَ مُرْسُهَا (الأعراف: ۱۸۸) آئیں گے جہاں سے وہ امن میں ہوں گے۔ مَتَى خُرُوجُهَا ۔ فَمَرَّتْ بِهِ (الأعراف: ۱۹۰) جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَأَتْهُمُ اللهُ مِنْ اسْتَمَرَّ بِهَا الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ يَنْزَغَنَّكَ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۔ اللہ ان کے پاس وہاں سے آیا جہاں سے وہ گمان نہ کرتے تھے۔ مِنْ جِنَّةٍ (الأعراف : ۲۰۱) يَسْتَخِفَّنَّكَ ۔ طَيْفٌ مُلِمٌ کے معنی ہیں بوجہ دیوانگی۔ اَيَّانَ مُرْسُھا کے بِهِ لَمَمٌ، وَيُقَالُ طيف (الأعراف: ۲۰۲) وَهُوَ وَاحِدٌ۔ يَمُدُّونَهُم (الأعراف: ٢٠٣) 68 معنی ہیں اس کا ظہور کب ہو گا۔ فمرت بہ کے معنی ہیں اسے حمل رہا یہاں تک کہ وہ مدت اس يُزَيِّنُونَ ۔ وَخِيفَةً (الأعراف: ٢٠٦) نے پوری کی۔ يَنْزَغَنَّكَ کے معنی ہیں وہ تجھے خَوْفًا، وَخُفْيَةً (الأعراف: ٥٦) مِنَ اُبھارے۔ طیف سے مراد ہے وہ: ہے وہ خیال جس میں الْإِخْفَاءِ وَالْآصَالُ وَاحِدُهَا أَصِيل بدی کی تحریک ہو اور اسے تکلیف بھی کہتے ہیں وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ اور یہ مفرد ہے۔ يَمُدُّونَهُمْ کے معنی ہیں اُن كَقَوْلِهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الأحزاب: ٤٣) کو اچھا کر کے دکھلایا۔ اور خِيفَةً خوف سے ہے، (یعنی ڈر کر) اور خُفْيَةً اخْفَا سے ہے۔ (یعنی چپکے سے) اور آصال کی مفرد اصیل ہے۔ اور یہ وہ وقت ہے جو عصر اور مغرب کے درمیان ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بُكْرَةً وَ اصیلا یعنی صبح و شام ۔ تشریح : امام ابن حجر نے اس سورۃ کے نام الاعراف کی نسبت بعض روایتیں نقل کی ہیں۔ روایتیں نقل کی ہیں۔ جن میں سے اعلام این مو ایک یہ ہے کہ اصحاب الأعراف ملائکۃ اللہ ہیں، جو نفخ صور پر مقرر ہیں اور اس کے ذریعہ سے وہ مومن اور کافر کے درمیان تمیز کریں گے اور اس پر یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ انہیں عَلَى الْأَعْرَافِ رجال (الأعراف: ۴۷) یعنی مرد کہا گیا ہے اور ملائکہ رجولیت یا انثیت کے وصف سے پاک ہیں۔ اس قسم کی توجیہہ کا ذکر کرنے کے بعد امام موصوف نے یہ رائے قائم کی ہے : وَلَيْسَ بوَاضح کہ یہ وجہ تسمیہ واضح نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۷) امام بخاری نے تسمیۃ الاعراف کے بارے میں کسی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے۔ البتہ