صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 304 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 304

صحیح البخاری جلد ۱۰ امه له ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف مِنْهُمْ ۔ ادارَكُوا (الأعراف: (۳۹) کے معنی ہیں اس کے ہم جنس اس کا خاندان جن اجْتَمَعُوا ۔ وَمَشَاقُ الْإِنْسَانِ وَالدَّابَّةِ میں سے وہ ہے۔ ادارکوا کے معنی ہیں اکٹھے كُلِّهَا يُسَمَّى سُمُومًا وَاحِدُهَا سَمٌ، ہوں گے۔ اور انسان و حیوان کے تمام سوراخوں وَهِيَ عَيْنَاهُ وَمَنْخِرَاهُ وَفَمُهُ وَأُذْنَاهُ کو سُمُوم کہتے ہیں (یعنی مسام ) اس کی مفرد سم وَدُبُرُهُ وَإِحْلِيلُهُ ۔ غَوَاشٍ (الأعراف: (٤٢) ہے اور یہ سوراخ اس کی آنکھیں اور نتھنے اور منہ مَا غُشُوا بِهِ نُشُرًا مُتَفَرِّقَةً نَكِدًا اور کان اور مقعد اور پیشاب گاہ ہیں۔ خواش (الأعراف: ٥٩) قَلِيلًا يَغُنُوا (الأعراف: ۹۳) کے معنی ہیں (پر دے) جن سے وہ ڈھ ڈھانچے يَعِيشُوا ۔ حَقِيق ( الأعراف : ١٠٦) حَق جائیں گے ۔ نُشُرًا کے معنی ہیں پراگندہ۔ نگدا استرهبوهم (الأعراف: ۱۱۷) مِنَ الرَّهْبَةِ کے معنی ہیں تھوڑا ۔ يَغْنُوا سے مراد ہے وہ تلقف (الأعراف: ۱۱۸) تَلْقَمُ۔ زندہ رہے۔ حقیق کے معنی ہیں حق واجب۔ ظيرهم (الأعراف: ۱۳۲) حَظِّهُمْ اسْتَرْهَبُوهُم (سے مراد ہے اُن کو اپنے اثر کے طُوفَانٌ مِّنَ السَّيْلِ، وَيُقَالُ لِلْمَوْتِ ماتحت ڈرایا) رَهْبَة سے ہے۔ تَلْقَفُ کے معنی الْكَثِيرِ الطُّوفَانُ الْقَمَّل (الأعراف : ١٣٤) ہیں وہ نگل جاتا ہے۔ طائِرُ هُمْ کے معنی ہیں اُن الْحُمْنَانُ، يُشْبِهُ صِغَارَ الْحَلَمِ۔ كا نصيب - طوفان کے معنی ہیں سیلاب، اور موت عُرُوسٌ وَعَرِيسٌ بِنَاءً ۔ سُقِطَ (الأعراف: ١٥٠) کی کثرت کو بھی طوفان کہتے ہیں۔ القمل وہ كُلُّ مَنْ نَدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ۔ چڑیاں ہیں جو چھوٹی جوں کی مانند ہوتی ہیں۔ الْأَسْبَاطُ قَبَائِلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عُرُوش اور عریش کے معنی ہیں عمارت ۔ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ (الأعراف : ١٦٤) سُقِطَ سے مراد ہے ہر وہ جو شرمندہ ہوا تو اسی يَتَعَدَّوْنَ لَهُ يُجَاوِزُونَ ۔ تَعْد ( الكهف : (۲۹) سے کہتے ہیں: سُقِطَ فِي يَدِهِ الْأَسْبَاطُ کے تُجَاوِزُ شُرعا (الأعراف: ١٦٤) شَوَارِعَ ۔ معنی ہیں بنی اسرائیل کے قبیلے ۔ يَعْدُونَ فِي بئيس (الأعراف : ١٦٦) شَدِيدٍ۔ اَخْلَدَ السَّبْتِ کے معنی ہیں سبت کے روز اس کی مقررہ (الأعراف: ۱۷۷) قَعَدَ وَتَقَاعَسَ۔ حدود سے بڑھ جاتے ہیں۔ تَعْدُ کے معنی ہیں تو سَنَسْتَدْرِجُهُمُ (الأعراف: ۱۸۳) تجاوز کر جاتا ہے۔ شرعا کے معنی ہیں تیرتے نَأْتِيهِمْ مِّنْ مَّأْمَنِهِمْ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى ہوئے۔ بیس کے معنی ہیں سخت اخلد کے