صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 303
صحیح البخاری جلد ۱۰ ٣٠٣ -۶۵ کتاب التفسير الأعراف ٧- سُورَة الْأَعْرَاف قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ وَرِينَنا حضرت ابن عباس نے کہا: (يُوَارِي سَواتِكُمْ (الأعراف: ۲۷) اَلْمَالُ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ وَرِيْشًا میں) رِيَنَّا کے معنی ہیں مال۔(لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (الأعراف: ٥٦) فِي الدُّعَاءِ الْمُعْتَدِينَ میں) مُعْتَدِین سے مراد وہ لوگ ہیں وَفِي غَيْرِهِ۔عَفَوا ( الأعراف : ٩٦) كَثُرُوا جو دعا وغیرہ میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔عفوا وَكَثُرَتْ أَمْوَالُهُمْ الْفَتَاحُ (السبأ : ۲۷) کے معنی ہیں وہ بہت ہو گئے، اور ان کے مال الْقَاضِي۔افتح بَيْنَنَا (الأعراف: ۹۰) بڑھ گئے۔فتاح کے معنی ہیں فیصلہ کرنے قـض بَيْنَنَا نَتَقْنَا الْجَبَلَ والا افتح بيننا کے معنی ہیں ہمارے درمیان (الأعراف: ۱۷۲) رَفَعْنَا إِنبَجَسَتُ: فیصلہ کر۔نَتَقنَا کے معنی ہیں ہم نے اٹھایا۔انْفَجَرَتْ مُتَبَرُ (الأعراف:١٤٠) انبجست سے مراد ہے پھوٹ نکلے۔خُسْرَانٌ۔الى (الأعراف: ٤ ٩) أَحْزَنُ، مُتَبر کے معنی ہیں گھاٹا پانے والا۔اسی کے معنی ہیں میں غم کھاتا ہوں۔تاس کے معنی ہیں غم کھا۔اور (حضرت ابن عباس کے ماسوا) اوروں نے کہا: مَا مَنَعَكَ أَلا تَسْجُدَ سے مراد یہ ہے کہ سجدہ کرنے سے تم کو کس بات نے روکا۔(الأعراف: ٢٣) أَخَذَ الْخِصَافَ مِنْ وَرَقِ يَخْصِفُنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ کے معنی یہ الْجَنَّةِ، يُؤلَّفَانِ الْوَرَقَ يَحْصِفَانِ الْوَرَقَ ہیں کہ انہوں نے باغ کے پتوں کو لے کر ایک بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ سَواتُهُمَا (الأعراف:٢٣) پتے کو دوسرے پر رکھ کر (اپنے اوپر) جوڑا۔كِنَايَةً عَنْ فَرْجَيْهِمَا وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ سَواتُهُما میں اشارہ ہے ان کی شرم گاہوں (الأعراف: ٢٥) هُوَ هَا هُنَا إِلَى يَوْمِ کی طرف - وَمَتَاعٌ إِلى حِيْنِ (میں اِلى حِينٍ) الْقِيَامَةِ، وَالْحِينُ عِنْدَ الْعَرَبِ مِنْ سَاعَةٍ سے اس جگہ قیامت کے دن تک مراد ہے اور إِلَى مَالَا يُحْصَى عَدَدُهَا۔اَلرِّيَاشُ حِين عربوں کے نزدیک ایک گھڑی سے لے کر وَالرِّيسُ وَاحِدٌ ، وَهُوَ مَا ظَهَرَ مِنَ اللَّبَاسِ بے شمار گھڑیاں ہیں۔الرِّيَاشُ وَالرِّيشُ ایک قبيلة (الأعراف: ۲۸) جِيلُهُ الَّذِي هُوَ ہی ہیں اور یہ وہ لباس ہے جو ظاہر ہو۔قبیلہ تأس (المائدة: ٢٧) تَحْزَنْ۔وَقَالَ غَيْرُهُ: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ (الأعراف:١٣) يَقُولُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ۔يَخْصِفْن۔