صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 301 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 301

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنعام بَاب ٩ : قُلْ هَلْمَ شُهَدَاءَكُمُ (الأنعام : ١٥١) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) تو (ان سے) کہہ دے کہ اپنے اُن گواہوں کو بلاؤ لُغَةُ أَهْل الْحِجَازِ هَلُمَّ لِلْوَاحِدِ هَلُمَّ اہل حجاز کی زبان میں استعمال ہوتا ہے۔مفرد، تثنیہ اور جمع سب کے لیے۔بیان کیا۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الم نے وَالِاثْنَيْنِ وَالْجَمْعِ۔٤٦٣٥ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۶۳۵ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عبد الواحد بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔عمارہ (بن حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قعقاع) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوزرعہ نے ہمیں اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رَضِيَ۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ فرمایا: جب تک سورج اپنے غروب ہونے کی جگہ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِهَا ، فَإِذَا سے نہیں طلوع کرے گا اس وقت تک وہ گھڑی رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ برپانہ ہو گی۔جب لوگ اس نشان کو دیکھیں گے حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيْمَانُهَا لَمْ تَكُن جو بھی اس زمین پر ہوں گے ایمان لائیں گے۔أمَنَتْ مِنْ قَبْلُ۔(الأنعام : ١٥٩) پھر یہ وہ وقت ہو گا جب کسی نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو۔أطرافه : ٨٥ ١٠٣٦، ١٤١٢ ، ۳٦٠٨ ، ٣٦۰۹، ٤٦٣٦ ، ٦٠٣٧، ٦٥٠٦ ، ٦٩٣٥، ٧٠٦١، ٧١١٥، ٧١٢١۔هلم شُهَدَاوَكُمُ : اہل حجاز لفظ هَلُمَّ بمعنی لاؤ مفرد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے ریح استعمال کرتے ہیں اور اہل مجد بوقت تذکیر و تانیث، مفرد، تثنیہ اور جمع کا فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔کہتے ہیں : هَلْم ، هَلُنِي، هَلُمَّا هَدُمُوا اور هَلْمُمْنَ۔پوری آیت یہ ہے : قُلْ فَلِهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ تهل لكم أَجْمَعِينَ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ هُذَا ۚ فَإِنْ شَهِدُ وَافَلَا تَشْهَدُ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَبُوا بِالتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الأنعام: ۱۵۰ ۱۵۱) تو کہہ دے (تمہاری بے عقلی کی باتیں بتاتی ہیں) کہ اثر کرنے والی دلیل اللہ ہی کے قبضہ میں ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔تو (ان سے) کہہ دے کہ اپنے اُن گواہوں کو بلاؤ جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے اس (یعنی فلاں فلاں) چیز کو حرام کیا ہے۔پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں تو ان کے ساتھ (شامل ہو کر ) تو گواہی نہ دے اور اُن لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کر جو ہماری آیتوں کو جھٹلا چکے ہیں اور جو لوگ پیچھے آنے والی باتوں) پر ایمان نہیں لاتے اور وہ اپنے رب کے شریک ( بھی ) بناتے ہیں۔