صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 300
۳۰۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام صحیح البخاری جلد ۱ ۱۰ یعنی تقدیر امانت ان لوگوں پر جاری ہوتی ہے جو پرلے درجے کے سنگ دل ہوتے ہیں اور اُن کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہوتی اور اُن کی ہلاکت بہتوں کے لئے دیدہ عبرت بنتی ہے اور پھر تقدیر احیاء کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔زُخْرُفَ الْقَوْلِ سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے و گنالِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِن يُوحَى بَعْضُهُم إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَولِ غُرُورًا وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرُهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (الأنعام:۱۱۳) اور ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر اک نبی کا دشمن بنادیا تھا۔ان میں سے بعض بعض کو دھوکا دینے کے لیے (ان کے دل میں ) بُرے خیال ڈالتے ہیں جو محض ملمع کی بات ہوتی ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔پس تو ان کو بھی اور ان کے جھوٹ کو بھی نظر انداز کر دے۔زُخْرُفَ سے مراد باطل ہے جسے ملمع سازی سے خوبصورت پیرایہ میں پیش کیا جاتا ہے اور اس سے لوگوں کو فریب دیا جاتا ہے۔آخر جب دونوں قسم کی تقدیر نافذ ہوتی ہے تو ان کی قلعی کھل جاتی ہے۔زُخْرُف کی مذکورہ بالا شرح ابو عبیدہ کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۷۵) وَحَرْثٌ حِجر سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے : وَقَالُوا هذة أَنْعَامُ وَحَرْثٌ حِجْرٍ لَا يَطْعَمُهَا الا مَنْ تَشَاءُ بِزَعَبِهِمْ وَأَنْعَامُ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَ أَنْعَامُ لَا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا افْتِرَاء عَلَيْهِ - سَيَجْزِيْهِمْ بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (الأنعام: ۱۳۹) اور وہ اپنے گمان کی بنا پر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں جانور اور کھیتی (ایسے ہیں کہ اُن کا کھانا ) ممنوع ہے۔انہیں صرف وہی کھا سکتا ہے جس کے متعلق ہم کہیں ( کہ وہ کھائے) اور (کہتے ہیں کہ) کچھ جانور ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھیں (سواری کے لیے ) حرام کر دی گئی ہیں اور کچھ جانور ایسے ہیں کہ وہ اُن پر اللہ کا نام نہیں لیتے۔( یہ اُن کا قول و فعل) اس (اللہ) پر افتراء کے طور پر (ہوتا) ہے۔وہ انہیں اس جھوٹ کے سبب سے جو وہ بناتے ہیں ضرور سزا دے گا۔اس آیت کا سیاق و سباق اُن مسائل حلت و حرمت سے متعلق ہے۔جو بت پرستوں کے کاہنوں نے نذر نذرانوں اور خوردونوش کے متعلق بنائے ہوئے تھے اور اس طرح وہ دیو بے رحم کی طرح ان کی گردنوں پر سوار تھے اور اُن کے اموال سے اپنی تن پروری کا ذریعہ ایسے مشرکانہ مسائل کو بنایا ہوا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسائل کے دیو لعین سے آزادی دلائی اور بت پرستوں کے ہاتھوں پامال انسانیت نے آزادی اور زندگی کا سانس لیا۔حجر کے معنی ہیں ممنوع۔جیسا کہ سورہ فرقان آیت نمبر ۵۴ میں یہ لفظ روک کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے : وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذَبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أَجَاجُ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَ حِجْرًا مَّحْجُورًا اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو چلایا ہے۔جن میں سے ایک تو بہت میٹھا ہے اور دوسرا نمکین ( اور ) کڑوا ہے اور اس (اللہ ) نے ان دونوں کے درمیان ایک روک بنادی ہے اور ایسا سامان بنایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پرے رکھتے ہیں ، ملنے نہیں دیتے۔لفظ حجر کی مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب احادیث الانبیاء باب ۷ ۱ جزء 4 صفحہ ۲۰۶