صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 299
۶۵ کتاب التفسير / الأنعام صحيح البخاری جلد ۱۰ أَوْلَادَكُم مِّنْ إمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُم وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَضَكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (الأنعام: ۱۵۲) تو (ان سے) کہہ کہ آؤ جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے میں تمہیں پڑھ کر سناؤں (اس کا حکم ہے) کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور والدین سے احسان کرو اور مفلس ہو جانے کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی اور بدیوں کے (بالکل) قریب نہ جاؤ۔نہ اُن میں سے ظاہر ( بدیوں) کے نہ چھپی (بدیوں) کے اور یہ کہ اس نفس کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے منع فرمایا ہے۔(شریعت یا قانون کی) اجازت کے بغیر قتل نہ کرو۔اللہ اس بات کا تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے تاکہ تم ( بدیوں سے) رکو۔مذکورہ بالا آیت کے علاوہ بعض الفاظ کی شرح نقل کر کے مناسبت معانی کے اعتبار سے دوسری آیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔وکیل کے معنی حفیظ اور محیط یہ ہیں۔اس سے مراد یہ آیت ہے: بَدِيعُ السّمواتِ وَ ج で الْأَرْضِ ، الى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ه ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ * لا إلهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وكيل ( الأنعام : ۱۰۲ ۱۰۳) (وہ) آسمانوں اور زمین کو بلا نمونہ پیدا کرنے والا ہے، اس کا بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہ تھی۔اور اس نے (تو) ہر اک چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر اک امر کو جانتا ہے۔یہ ہے تمہارا اللہ جو تمہارا رب (بھی) ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔پس اس کی عبادت کرو اور وہ ہر ایک (چیز) پر نگران ہے۔وکیل کے معنی بقول ابو عبیدہ نگرانی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۷۵) آیات کا سیاق و سباق خالص توحید باری تعالیٰ پر مشتمل ہے۔قبلا سے اس آیت کی طرف توجہ منعطف کرانا مقصود ہے: وَ کو اننَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قَبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ وَلكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ (الأنعام : ۱۱۲) اور اگر ہم اُن پر فرشتے نازل کرتے اور مردے اُن سے کلام کرتے اور ہر اک چیز کو ہم اُن کے آمنے سامنے کھڑا کر دیتے تو بھی وہ اللہ کی مشیت کے بغیر ایمان نہ لاتے، بلکہ اُن میں سے بہت سے جاہل ہیں۔یہ حال تھا مشرکین عرب کی شدت جہالت و تعصب کا اور پھر جو تبدیلی ان کے عقائد و اعمال میں واقع ہوئی اور جس طرح کہ وہ معبود حقیقی کے پروانے بنے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قدسی کا حیرت انگیز اور عدیم النظیر معجزہ احیاء ہے۔وہ ہر قسم کے شرک سے شدید طور پر بیزار اور منکرات ظاہرہ وباطنہ سے متنفر ہو گئے اور انہوں نے محامد و محاسن کا ایک ایسا خوبصورت پیراہن زیب تن کیا کہ وہ محبوب ازلی کے محبوب بن گئے۔یہ مفہوم ہے لَا شَي؟ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ كَا - وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْ ءٍ قبلاً کا مفہوم بموجب شرح ابو عبیدہ ہر قسم کا عذاب ہے ( جو اگر اُن پر وارد کر دیں تب بھی وہ اپنے عقائد پر بضد قائم رہیں) اور بموجب شرح حضرت ابن عباس اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں، اس صورت میں لفظ قبلا یا قبلا ہوگا نیز قرآت قبلاً جمع ہے قبیل کی یعنی جماعت در جماعت (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۷۵)