صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 298 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 298

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۹۸ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام حَجْرُ الْيَمَامَةِ فَهْوَ مَنْزِلٌ۔الْأَرْضِ فَهُوَ حِجْرٌ ، وَمِنْهُ سُمِّيَ کہتے ہیں۔اور (أَصْحَابُ الحِجر میں ) جو الحجر حَظِيمُ الْبَيْتِ حِجْرًا كَأَنَّه مُشْتَقٌ مِنْ ہے تو وہ شمود کی ایک بستی کا نام ہے۔اور جس مَّحْطُومٍ مِثْلُ قَتِيل مِنْ مَّقْتُولٍ، وَأَمَّا زمین کو تو روک دے اس کو بھی حجر کہتے ہیں یعنی رکھ (چراگاہ)۔انہیں معنوں میں بیت اللہ کی حطیم (دیوار) کا نام حجر رکھا گیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حطیم لفظ مخطوم کے معنوں میں ہے۔جیسے قتیل مَقْتُول کے معنوں میں ہے اور حَجْرُ الْيَمَامہ جو ہے تو وہ ایک مقام ہے۔تشريح: وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ: یہ آیت ۱۵۲ کا حصہ ہے جس میں شرک باللہ کی حرمت کے ساتھ والدین سے حسن سلوک کی ہدایت ہے اور قتل اولاد کی ممانعت ہے۔اس قسم کے قتل میں واد البنات ( بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے) کی وحشیانہ رسم بھی تھی۔ان کی پیدائش عار سمجھی جاتی تھی اور معابد کی تعمیر کے موقع پر بیٹوں کو بھی بطور نذر قربان کیا جاتا تھا جیسا کہ عبد المطلب بن ہاشم سے متعلق مشہور ہے کہ جب قریش مکہ چاہ زمزم کی کھدائی میں مزاحم ہوئے تو انہوں نے نذر مانی کہ اگر ان کے ہاں دس بیٹے ہو کر جوان ہوئے اور اس مزاحمت کو روکا تو اُن میں سے ایک بیٹا اللہ کے نام پر کعبہ کے پاس ذبح کریں گے۔چنانچہ ان کے دس بیٹے جوانی کو پہنچے تو انہیں اپنی نذر سے مطلع کیا گیا اور وہ اس نذر کے پورا کرنے پر رضامند تھے۔قرعہ اندازی کے لیے مہبل بت کے پجاری کا بہن کو بلایا اور قرعہ ان کے بیٹے عبد اللہ (والد رسول اللہ صلی الل) کے نام پر نکلا اور جب انہیں ذبح کرنے کا ارادہ ہوا تو قریش مانع ہوئے اور لوگوں نے اپنے بیٹوں کو پیش کیا اور آخر مشورہ قرار پایا کہ فلاں قیاف (قیافہ شناس) پروہت سے فتویٰ لیا جائے۔اُس نے اس کے بدلے اونٹوں پر قرعہ اندازی کی تجویز کی اور آخر ایک سو اونٹ کا قرعہ نکلنے پر وہ ذبح کیے گئے۔اس واقعہ سے کم از کم اُن کے ہاں قتل اولاد کی مشرکانہ رسم کا پتہ چلتا ہے۔ادیان العرب في الجاهلية لمحمد نعمان الجارم، النذر صفحہ ۸۳٬۸۲) اس کتاب میں کہ بعض مشرکین بطور نذر بیٹوں کو یہودیوں کے حوالہ کر دیتے تھے۔یہ بھی ایک قسم کا قتل اولاد ہے۔اور فقر وفاقہ کے خوف سے بعض بچے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیے جاتے تھے۔مذکورہ بالا آیت میں جہاں یہ قتل اولاد حرام کیا گیا ہے وہاں ہر قسم کی ظاہری و باطنی مکر وہ باتیں بھی حرام کی گئی ہیں اور اس تعلق میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو سراسر حمد سے متصف ہے اسے خوبیاں پسند ہیں اور برائیاں ناپسند ہیں۔پوری آیت یہ ہے : قُلْ تَعَالَوْا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبِّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ وَلَا تَقْتُلُوا ادیان العرب في الجاهلية لمحمد نعمان الجارم ، النذر ، صفحه ۸۲ ہے