صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 297
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۹۷ ۶۵- کتاب التفسير الأنعام الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: اللہ سے بڑھ کر وَلَا شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللهِ کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اس لیے اس نے تمام وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ قُلْتُ سَمِعْتَهُ بدیاں حرام کر دیں، وہ بھی جو اُن میں ظاہر ہیں اور وہ بھی جو چھپی ہیں اور اللہ کو کوئی چیز بھی اتنی مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَرَفَعَهُ قَالَ نَعَمْ۔ پیاری نہیں جتنی کہ مدح۔ اس لیے اس نے اپنی تعریف آپ کی ہے۔ (عمرو بن مرہ نے کہا:) أطرافه: ٤٦٣٧، ٥٢٢٠، ٧٤٠٣۔ میں نے (ابو وائل سے) پوچھا: کیا آپ نے یہ (حدیث) حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے خود سنی؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اور کیا حضرت عبد اللہ بن مسعود) نے سند کو آنحضرت صلی اعلام تک پہنچایا تھا ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ باب : ۸ وكيل (الأنعام : ١٠٣) حَفِيظٌ وَكِيلٌ کے معنی ہیں نگہبان اور گھیر نے والا ۔ وَمُحِيطٌ بِهِ۔ قُبُلًا (الأنعام : ۱۱۲) جَمْعُ قبلا جمع ہے قبیل کی اور اس کے یہ معنی ہیں کہ قَبِيلٍ وَالْمَعْنَى أَنَّهُ ضُرُوبٌ لِلْعَذَابِ سزا کی کئی قسمیں ہیں اور ہر ایک قسم کو قبیل كُلِّ ضَرْبٍ مِنْهَا قَبِيلٌ زُخْرُفَ الْقَوْلِ کہتے ہیں۔ زُخْرُفَ الْقَوْلِ کے معنی ہیں ہر وہ چیز (الأنعام : ۱۱۳) كُلُّ شَيْءٍ حَسَّنْتَهُ جس کو تو نے خوبصورت بنایا اور اس کو رنگارنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیا اور (حقیقت میں ) وَ وَشَيْتَهُ وَ هُوَ بَاطِلٌ فَهُوَ زُخْرُفٌ۔ وہ بے کار لغو ہو تو اس کو زُ خُرُف کہتے ہیں۔ اور وَحَرْثٌ حِجر (الأنعام : ١٣٩) حَرَامٌ حَرْثٌ حِجْر کے معنی ہیں (وہ وہ کھیتی جو ) وَكُلُّ مَمْنُوعٍ فَهُوَ حِجْرٌ مَّحْجُورٌ قرار دی گئی) اور ہر وہ چیز جس سے روکا جائے تو وَالْحِجْرُ كُلُّ بِنَاءِ بَنَيْتَهُ وَيُقَالُ اس کو حجر محجوڑ کہتے ہیں یعنی ممنوعہ چیز لِلْأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ حِجْرٌ ، وَيُقَالُ جس سے روکا گیا ہو۔ ہو۔ اور ایسا ہی حجر ہر اس لِلْعَقْلِ حِجَا وَحِجْرٌ وَأَمَّا الْحِجْرُ عمارت کو کہتے ہیں جو تو بنائے اور گھوڑی کو فَمَوْضِعُ ثَمُودَ وَمَا حَجَّرْتَ عَلَيْهِ مِنَ بھی حِجْر کہتے ہیں اور عقل کو بھی حجا اور ج حرام اور حجر