صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 296 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 296

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۹۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام انبیاء بنی اسرائیل نے بھی آپ کے حق میں پیشگوئیاں فرمائی ہیں جن کے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔ ان میں سے ایک مخصوص پیشگوئی یسعیاہ (الیسع ) نبی علیہ السلام کی ہے۔ جس کا عنوان ہے " عرب کی بابت بار بابت بار نبوت“۔ ”اے درانیوں کے قافلو تم عرب کے جنگل میں رات کاٹو گے۔ وہ پیاسے کے پاس پانی لائے۔ تیما کی سر زمین کے باشندے روٹی لے کر بھاگنے والے سے ملنے کو نکلے۔ کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔ کیونکہ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا کہ مزدور کے برسوں کے مطابق ایک برس کے اندر اندر قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر تھوڑے سے ہوں گے۔“ یسعیاہ باب ۲۱ : ۱۳ تا ۱۷) یہ ہجرت نبوی اور قریش کی شکست فاش کے بارے میں واضح پیشگوئی ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس پیشگوئی کا اعادہ فرمایا ہے۔ ہے۔ جہاں مزدور کے ایک برس کی جگہ مِيعَادُ يَوْمٍ ۔ مِيعَادُ يَوْمٍ ہے۔ فرماتا ہے کہ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ تباہی کی تباہی کی گھڑی کا وقت کب ہوگا۔ قُلْ لَكُمْ مِيعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ ) ( سبأ: ۳۱) تو کہہ دے کہ تمہارے لیے ایک دن کی میعاد مقرر ہے۔ نہ تو تم اس سے ایک گھڑی پیچھے رہ سکو گے ، نہ ایک گھڑی آگے بڑھ سکو گے۔ ایک دن کی میعاد سے مراد ایک برس ہے جو ہجرت کے بعد غزوہ بدر میں پوری ہوئی اور بنو قیدار (قریش) کی ساری حشمت خاک میں مل گئی۔ خلاصہ یہ کہ الفاظ زیر شرح بلحاظ مفہوم مشکل نہیں کہ ان کی تفسیر حضرت ابن عباس سے بیان کو بیان کی جاتی بلکہ امام بخاری کے مد نظر وہ اہم مضمون ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور جس کی طرف توجہ منعطف کرانا اصل مقصود ہے۔ باب ۷ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الأنعام : ١٥٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور بدیوں کے (بالکل) قریب نہ جاؤ، نہ اُن میں سے ظاہر ( بدیوں ) کے ، نہ چھپی ( بدیوں) کے ٤٦٣٤ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۴۶۳۴ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي وَائِلٍ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن مرہ ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا سے ، عمرو نے ابو وائل (شقیق بن بن سلمہ ) سے ، أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ) الله