صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 295
۲۹۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام صحيح البخاری جلد ۱۰ إصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ & (الأعراف: (۱۵۸) وہ (لوگ) جو ہمارے اس رسول کی اتباع کرتے ہیں جو نبی ہے اور اتنی ہے جس کا ذکر تورات اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے۔وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بُری باتوں۔روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور سب بری چیزیں اُن پر حرام کرتا ہے اور اُن کے بوجھ (جو اُن پر لادے ہوئے تھے ) اور طوق جو ان کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ اُن سے دور کرتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اس کو طاقت پہنچائی اور اس کو مدد دی اور اُس نور کے پیچھے چل پڑے جو اس کے ساتھ اُتارا گیا تھا وہی لوگ بامراد ہوں گے۔اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تورات اور انجیل کی واضح پیشگوئیوں کے مصداق اور واجب الاتباع رسول قرار دیئے گئے ہیں اور اِسی وجہ سے عنوان باب میں اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے اس باب کا سابقہ باب کے مضمون سے ربط واضح ہو جاتا ہے۔سورۃ الاعراف آیت ۱۵۹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام بنی نوع انسان کے لیے دعوت عامہ کا ذکر بایں الفاظ ہے: قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مِيعَا بِالَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَأمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُتِيَ الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ) کہو (کہ) اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔جس کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت حاصل ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔پس اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو نبی بھی ہے اور امی بھی ہے ( اور ) جو ایمان لاتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات پر اور اس کی اتباع کرو۔تا کہ تم ہدایت پاؤ۔تورات اور انجیل کی مشار الیہ پیشگوئیوں کے لیے دیکھئے استثناء باب ۱۸: ۱۵ تا ۲۰۔جہاں بنی اسرائیل کے بھائیوں بنی اسماعیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند ایک صاحب شریعت نبی معبوث کیے جانے کی پیشگوئی ہے اور اس پیشگوئی میں یہ بھی مذکور ہے کہ آئندہ خداوند اُن سے ہم کلام نہیں ہو گا کیونکہ اس قوم نے خود ہی کہا ہے کہ مجھ کو نہ تو اپنے خداوند کی آواز پھرسننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ کا نظارہ، تاکہ میں مر نہ جاؤں اور اسی کتاب کے باب ۳۳ : ۲ میں خداوند کے سیناء اور شعیر سے آنے اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہونے کا ذکر ہے اور لکھا ہے کہ وہ لاکھوں قدوسیوں میں سے آیا۔اُس کے داہنے ہاتھ پر اُن کے لیے آتشی شریعت ہے اور وہ قوموں سے محبت رکھتا ہے۔کوہ فاران سے جلالی شان میں ظہور کی یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات سے پوری ہوئی اور آپ کے سوا اس پیشگوئی کا اور کوئی مصداق نہیں۔انجیل میں اس پیشگوئی کے لیے دیکھئے متی باب ۱۳: ۳۱ باب ۲۱: ۳۳ تا ۴۴، مرقس باب ۱۲: ۱تا۹، لوقا باب ۲۰: ۹ تا ۱۶۔جہاں بیٹے کی توہین و بدسلوکی کے بعد مالک باغ کے خود آنے اور باغبانوں سے انتقام لینے کا تمثیلاً ذکر ہے۔اسی طرح یوحنا باب ۱: ۲۱ باب ۱۶:۱۴، باب ۱۶: ۱۳ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی پیشگوئی ہے۔یہ حوالے محولہ بالا آیت کی شرح کے لیے کافی ہیں۔حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہا السلام کے علاوہ اور