صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 294 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 294

صحيح البخاری جلد ۱۔۲۹۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام حد سے حرام قرار دیے گئے ہیں۔اسی طرح مشرکین کی خود ساختہ حرام و حلال کی پابندی بھی اسلام نے ملحوظ نہیں رکھی۔مذکورہ بالا حکم حرمت کے تعلق میں اضطراری صورت کو مستثنی قرار دیا گیا ہے ، بشر طیکہ خواہش نفس نہ ہو اور تجاوز نہ کیا جائے۔یعنی اتنا کھایا پیا جائے جس سے جان بچ سکتی ہو اور شریعت موسوی میں جس مخصوص و عارضی حرمت کا معنونہ آیت میں حوالہ دیا گیا ہے اس کا ذکر کتاب احبار باب ۳، ۴ میں ملاحظہ ہو۔ان میں سلامتی اور خطا کی مخصوص قربانیوں کا طریق بیان ہوا ہے کہ گائے بیل وغیرہ جو گھر دار جانور ہیں ان میں سے کسی کو کا ہن بطور سوختنی قربانی کے چڑھائے خواہ وہ نر ہو یا مادہ۔وہ بے عیب ہونی چاہئیں اور انتڑیوں وغیرہ سے لیٹی ہوئی ان کی چہ بیاں جداکر کے جلائی جائیں۔قربانی کے ناموں سلامتی کی قربانی اور خطا کی قربانی اور اخبار باب ۴ : ۲۶ سے ظاہر ہے کہ یہ قربانیاں بطور کفارہ معصیت و سرکشی ہیں۔اسی طرف آیت ذلِكَ جَزَيْنَهُم بِبَغيهم (الأنعام: ۱۴۷) - اشارہ کرتی ہے۔امام بخاری نے یہ باب قائم کر کے سابقہ باب کی آیت سے جو غلط مفہوم سمجھا گیا تھا اسے ایک معین مثال سے واضح کیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلامیہ میں احکام کی بنیاد بالکل الگ ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَعَلَی الذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفْرٍ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ - ذَلِكَ جَزَيْتُهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَدِقُونَ (الأنعام: ۱۴۷) اور جو لوگ یہودی ہیں ہم نے اُن پر ہر اک ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے ( بیل) اور بھیڑ ( بکری) میں سے ہم نے ان پر اُن دونوں کی چر بیاں باستثناء اس (چربی) کے جو ان کی پیٹھوں یا انتڑیوں پر ہو یا جو ہڈی سے ملی ہوئی ہو حرام کر دی تھیں۔یہ ہم نے انہیں اُن کی نافرمانی کی وجہ سے سزا دی تھی اور ہم یقینا سچے ہیں۔عنوان باب میں بعض الفاظ کی شرح ہے جو حسب ذیل ہے: كُلّ ذِي ظُفْر : یعنی کھر دار جانور ، ان میں اونٹ اور شتر مرغ بھی شامل ہیں۔الحوايا : یعنی وہ انتڑیاں جن میں مینگنیاں ہوتی ہیں۔ھادوا : کے معنی ہیں یہودی ہوئے اور ھدنا کے معنی ہیں ہم نے رجوع کیا۔تو بہ کے معنوں میں لفظ ھدنا سورۃ الاعراف کی آیت ۱۵۷ میں آیا ہے: وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ اور تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھی نیکی لکھ اور آخری زندگی میں بھی ( نیکی لکھ ) ہم تو تیر کی طرف آگئے ہیں۔سورہ اعراف آیت نمبر ۱۵۶ میں زلزلہ طور کے واقعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈرے کہ کہیں یہ قوم کی گوسالہ پرستی اور معصیت حکم کی سزا کا پیش خیمہ نہ ہو اور آپ نے جناب الہی میں دعا کی اور قبولیت دعا کے تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت وسیع ہے جو مومن و کافر پر بھی شامل ہوتی ہے لیکن متقیوں اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کے لیے تو لازم ہوتی ہے۔الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِى الأمى الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَةِ وَ الْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيْبَتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " ہم نے انہیں ان کی بغاوت کی یہ جزا دی۔“ ن