صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 293 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 293

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام الْحَوَايَا (الأنعام: ۱۳۷) الْمَبْعَرُ۔وَقَالَ وه انتڑیاں مراد ہیں جن میں مینگنیاں ہوتی غَيْرُهُ هَادُوا (الأنعام: ۱۳۷) صَارُوا ہیں۔دوسروں نے کہا : ھادوا یعنی وہ یہودی ہو يَهُودًا۔وَأَمَّا قَوْلُهُ هُدنا (الأعراف: ١٥٧) گئے۔اللہ تعالیٰ کا جو قول ہے: ( هُدْنَا إِلَيْكَ اس میں ھدانا کے معنی ہیں ہم نے توبہ کی۔هَائِدُ کے معنی ہیں تو بہ کرنے والا۔تُبْنَا هَائِدٌ تَائِبٌ۔٤٦٣٣ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ :۴۶۳۳ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حبيب لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ یزید بن ابی قَالَ عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حبیب سے روایت ہے کہ عطاء بن ابی رباح ) اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ رضی اللہ عنہما سے سنا۔(وہ کہتے تھے: ) میں نے لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ نے فرمایا: اللہ ان یہودیوں کو ہلاک کرے جب اللہ نے رَضِيَ ثُمَّ بَاعُوهَا فَأَكَلُوهَا۔وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ اُن پر ان جانوروں کی چربیاں حرام کیں تو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ كَتَبَ اُنہوں نے اُن چربیوں کو گایا اور اُن کو بیچا اور إِلَيَّ عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرًا عَنِ النَّبِيِّ اِس طرح اُن کو کھایا۔اور ابو عاصم ( نبیل) نے اس سند کو یوں نقل کیا، کہا: عبد الحمید ( بن جعفر ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی حبیب) نے ہمیں بتایا: عطاء نے مجھ کو یہ لکھا کہ میں أطرافه: ٢٢٣٦، ٤٢٩٦۔نے حضرت جابر سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ ہم سے روایت کرتے تھے۔تشريح: وَعَلَى الَّذِيْنَ هَادُوا حَزَ مُنَا كُلَّ ذِي ظُفُر : یہ آیت حلت و حرمت سے متعلق آیات کا حصہ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں شریعت موسویہ کی مخصوص و وقتی پابندی ملحوظ نہیں رکھی گئی اور حلال و حرام اشیاء میں سے چند ایک حرام قرار دے کر باقی میں آزادی دی گئی ہے۔مثلاً مردہ یا جسم سے نکلا ہوا خون یا سور کا گوشت یا غیر اللہ کے نام پر ذبح شدہ جانور یا نذرانے یہ سب ہماری شریعت میں