صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 292
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۹۲ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام اللہ۔وہ انبیاء جنہیں اللہ نے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہیں۔سورۃ حق میں بھی سابقہ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتا اور فرماتا ہے: قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ * وَمَا مِنَ الهِ الّا اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ رَبُّ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ، قُلْ هُوَ نَبَؤُا عَظِيمٌ لا أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ مَا كَانَ لَى مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِنْ يُوحَى إِلَى إِلَّا انما انا نذير مبين ) (ص: ۶۶ تا اے) تو (ان سے) کہہ دے کہ میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ اکیلا ( اور ) غالب ہے۔آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کا بھی۔(وہ) غالب ہے (اور اس کے باوجود) بخشنے والا ہے۔تو کہہ دے کہ یہ ایک بڑی خبر ہے۔(مگر) تم اس سے منہ پھیر رہے ہو۔مجھے بلند شان فرشتوں کا کوئی علم نہیں تھا جبکہ وہ (یہ) بحث کر رہے تھے (کہ اس زمانہ میں ہدایت دینے کے لیے کون شخص مناسب ہے) مجھے تو صرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ میں کھول کھول کر بیان کرنے والا نذیر ط (یعنی نبی ) ہوں۔بعثت نبوی کے تعلق میں ایک بشر کے پیدا کرنے کا ذکر کر کے فرماتا ہے: فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِيَ فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ، فَسَجَدَ الْمَلَبِكَةُ كُلُهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ ) (ص:۷۳ تا ۷۵) پس جب میں اسے مکمل کر لوں اور اس میں اپنا کلام ڈال دوں تو تم لوگ فرمانبرداری کے ساتھ اس کے آگے جھک جاؤ۔پس سب کے سب ملا ئکہ نے اس کی فرمانبرداری اختیار کرلی۔سوائے ابلیس کے جس نے تکبر کیا اور وہ پہلے سے ہی کا فر تھا۔اس سیاق کلام سے واضح ہو جاتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ کے زمانے کے لوگوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح سابقہ انبیاء علیہم السلام کی اطاعت اُن کے اپنے وقت میں اور اس سے محرومی مستوجب لعنت و رحمت الہی سے دوری ہے جس طرح پہلوں کا انکار۔یہ خلاصہ ہے مجاہد کے استفسار اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے جواب کا، نص لطیف اور مدلل پیرایہ سے غلط فہمی دور کی گئی ہے اور امام بخاری کا معنونہ آیت کے مفہوم کو واضح کرنے کی غرض سے روایت مذکورہ بالا سے استدلال ان کے وسعت علم اور عمیق نظر پر دلالت کرتا ہے۔بَاب ٦ : وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفْرِ * وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا الآيَةَ (الأنعام : ١٤٧) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور جو لوگ یہودی ہیں ہم نے ان پر ہر اک ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے ( بیل) اور بھیٹر ( بکری) میں سے ہم نے اُن پر ان دونوں کی چھ بیاں حرام کر دی تھیں وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلَّ ذِى حضرت ابن عباس نے کہا: كُلّ ذِي ظُفُرِ ظفر (الأنعام : ۱۳۷) الْبَعِيْرُ وَالنَّعَامَةُ سے مراد اونٹ اور شتر مرغ ہیں۔الحوایا سے