صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 291 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 291

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۹۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام زَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَمُحَمَّدُ بْنُ یزید بن ہارون، محمد بن عبید اور سہل بن یوسف عُبَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنِ الْعَوَّامِ نے عوام بن حوشب) سے، عوام نے مجاہد سے عَنْ مُجَاهِدٍ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ روایت کرتے ہوئے یہ زائد بیان کیا۔ میں نے نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حضرت ابن عباس سے پوچھا: تو اُنہوں نے کہا: أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ۔ أطرافه: ٣٤٢١، ٤٨٠٦، ٤٨٠٧۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جن کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔ تشريح : أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَيَهُمْ لَهُمُ اقتده : یہ آیت سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۹۱ ہے۔ جس میں مذکورہ بالا انبیاء کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت کے لیے چنا اور صراط مستقیم کی طرف ان کی راہنمائی فرمائی ۔ سبھی کا قبلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تھی۔ اسی ذات سے رابطہ پیدا کرنے کرانے کی انہیں ہدایت تھی اور اسی کی اُن انبیاء نے بنی نوع انسان کو دعوت دی ۔ فَيها لهم اقْتَدِهُ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَلَمِينَ (الأنعام : ٩١) پس تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ تو ان سے کہہ دے کہ میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ یہ تو صرف تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ مجاہد کے استفسار پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانعام کی آیات وَوَهَبْنَا لَهُ اسْحَقَ وَيَعْقُوبَ ۔۔۔ آخر رکوع تک تلاوت کر کے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمرہ انبیاء میں شامل ہیں جن کی اقتداء کا لوگوں کو حکم دیا گیا ہے۔ الفاظ ثُمَّ قَالَ هُوَ مِنْهُمْ اور الفاظ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ کا ایک ہی مفہوم ہے اور سورۃ ص کا حوالہ بھی استفسار کے جواب کا تتمہ ہے کیونکہ اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و شریعت دیئے جانے کا ذکر ہے۔ جس کی پیروی دنیا کی تمام قوموں پر لازمی قرار دی گئی ہے۔ سورۃ ص کو ص وَ الْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ) ( ص:۲) اے کی شہادت کے ساتھ شروع کر کے سورة الأنعام والی آیت قُلْ مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ اور إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِينَ (ص: ۸۸۰۸۷) کے پرختم کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ پیشگوئی ہے وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاهُ بَعْدَ حِينٍ (ص: ۸۹) اور کچھ عرصہ کے بعد تمہیں اس عظیم الشان خبر کا ضر ور علم ہو جائے گا کہ آپؐ کی دعوت کس طرح سارے ؟ رح سارے جہان میں مقبول اور اثر انداز ہوا اثر انداز ہو گی۔ غرض اس سورۃ کے حوالہ سے فَبِهُن لَهُمُ اقْتَدِہ کا صحیح مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : صَادِقُ القَول : قول کا ساقسم ہے وو القَولِ : قول کا سچا قسم ہے ذکر والے قرآن کی ۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الله ابع: "تو کہہ دے کہ میں تم سے اس (بات) پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔ یہ تو تمام جہانوں کے لئے ایک عظیم نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔“