صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 290 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 290

۶۵ کتاب التفسير / الأنعام صحیح البخاری جلد ۱۰ وایوب و یوسف اور موسیٰ و ہارون اور اُن کے بعد زکریا، یحی، عیسی اور الیاس علیہم السلام کا ذکر فرمایا اور بتایا ہے کہ تمام مرسلین ربانی اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دیئے گئے تھے اور مذکورہ بالا انبیاء کو مختلف درجات میں عزت بخشی گئی۔مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَنی: کتاب احادیث الانبیاء میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا ممانعت سے یہ نہیں پایا جاتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یونس بن متی پر عند اللہ اور حقیقت میں فضیلت حاصل نہیں تھی بحالیکہ نص صریح سے ظاہر ہے کہ انبیاء کو بعض باتوں میں ایک دوسرے سے ممتاز کیا گیا ہے۔بلکہ اس ممانعت سے فضول رقابت و نزاع کا دروازہ بند کرنا مقصود ہے۔اس تعلق میں مزید تشریح کتاب احادیث الانبیاء باب ۳۱، ۳۲ میں دیکھی جائے۔بَاب ٥ : أُولَبِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُلْ لَهُمُ اقْتَدِهُ (الأنعام : ٩١) یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ راست پر چلایا۔اس لیے انہی کے راستے کی تو بھی پیروی کر ٤٦٣٢: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ :۴۶۳۲: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ هشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ نے انہیں خبر دی، کہا: سلیمان احول نے مجھ سے أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسِ بیان کیا کہ مجاہد نے اُن کو بتایا کہ اُنہوں نے أَفِي صُ سَجْدَةٌ فَقَالَ نَعَمْ ثُمَّ تَلًا حضرت ابن عباس سے پوچھا: کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہ کہہ کر انہوں وَوَهَبْنَا لَةَ اسْحَقَ وَيَعْقُوبَ إِلَى قَوْلِهِ فَبِهُدُ بهُمُ اقْتَدِةُ (الأنعام: ٨٥-٩١) ثُمَّ قَالَ هُوَ مِنْهُمْ۔۹۱- نے یہ آیت پڑھی: وَ وَهَبْنَا لَه اسحق فَبِهل هم اقتده - - پھر انہوں نے کہا : حضرت داود بھی انہیں میں سے ہیں۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اس کو ہم نے اسحق اور یعقوب عطا کئے سب کو ہم نے ہدایت دی اور نوح کو ہم نے اس سے پہلے ہدایت دی تھی اور اُس کی ذریت میں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو بھی اور اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو جزا عطا کیا کرتے ہیں۔اور زکریا اور بیچی اور عیسی اور الیاس ( کو بھی ) یہ سب کے سب صالحین میں سے تھے۔اور اسماعیل کو اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو بھی اور ان سب کو ہم نے تمام جہانوں فضیلت بخشی۔اور ان کے آباء و اجداد میں سے اور ان کی نسلوں میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے ( بھی بعض کو فضیلت بخشی اور انہیں ہم نے چن لیا اور صراط مستقیم کی طرف انہیں ہدایت دی۔یہ ہے اللہ کی ہدایت جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور اگر وہ شرک کر بیٹھتے تو ان کے وہ اعمال ضائع ہو جاتے جو وہ کرتے رہے۔یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی پیس اگر یہ لوگ اس کا انکار کر دیں تو ہم یہ ( معاملہ) ایک ایسی قوم کے سپرد کر دیں گے جو ہر گز اس کے منکر نہیں ہوں گے۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی پس ان کی (اس) بدایت کی پیروی کر (جو اللہ ہی نے عطا کی تھی۔