صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 288
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۸۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام کامل امن اور ہدایت ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہے، جن کے ایمان میں کسی قسم کے شرک اور ظلم کی ملونی نہ ہو۔ ایمان اس وقت تک کامل نہیں، جب تک کہ ایک طرف اعمال صالحہ اس کے ساتھ نہیں اور دوسری طرف وہ ہر قسم کے ظلم سے خالی نہیں۔ کیونکہ شرک اور گناہ اور ہر قسم کا کفر اس کو ناقص کرتا رہتا ہے۔ فَنَزَلَتْ إِنَّ الشَّرْكَ سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گویا اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی۔ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ - سورہ لقمان کی آیت نمبر ۱۴ ہے جو مکی زندگی کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی تھی اور الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلم - سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۸۳ ہے جو ہجرت سے ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی۔ گویا ان دونوں سورتوں کے درمیان کم از کم چار پانچ سال کا عرصہ ہے۔ اس لیے الفاظ فَنَزَلَت سے سابقہ آیت کا صرف حوالہ دینا اور اس سے استدلال کرنا ہی مراد ہے۔ کسی قرینے ( یعنی لفظی یا معنوی مناسبت ) سے عرب لوگ بات مختصر بیان کرنے کے عادی تھے اور اس اختصار میں حد درجہ کے غلو تک پہنچے ہوئے تھے۔ ان آیا بَكْرٍ انْزَلَهُ آیا ۔ ( فتح الباری شرح فتح الباری شرح صحیح البخاری ، کتاب الفرائض، باب ۶ جزء جزء ۱۲ صفحہ ۱۹) اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے (دادا) کو باپ اُتارا۔ لیکن مراد یہ ہے کہ حقوق وراثت میں دادا کو بمنزلہ باپ قرار دے کر اس کو باپ کا حصہ دلایا۔ یہاں بھی اسی قسم کا حذف و اختصار ہے۔ چنانچہ امام علامہ عینی اور د چنانچہ امام علامہ عینی اور دیگر شارحین نے یہ روایت مستند طریق سے یوں بھی نقل یوں بھی نقل کی ہے : فَقَالُوا ہے : فَقَالُوا أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسُ إِيْمَانَهُ بِظُلْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) لَيْسَ بِذَلِكَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلى قَوْلِ لقمان یعنی آپؐ نے فرمایا: یہ مراد نہیں، لقمان کا قول تم نہیں سنا کرتے۔ یعنی إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ۔ دوسری روایت میں ہے : لَيْسَ كَمَا تَظُنُّونَ ۔ جیسا تم سمجھتے ہو وہ نہیں اور ایک تیسری روایت میں ہے۔ اِنَّمَا هُوَ الشَّرْكُ کے یعنی یہاں ظلم تو بمعنی شرک ہے۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الایمان، باب ۲۳ جزء اول صفحه ۱۱۹) (عمدة القاری شرح صحیح البخاری کتاب الایمان، باب ۲۳ جزء اول صفحه ۲۱۵) غرض سورتوں کی تاریخوں سے نیز ان روایتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فَأَنْزَلَ اللہ سے مراد صرف حوالہ دینا اور استدلال کرنا ہے ۔ شانِ نزول کے بھی یہی معنی ہیں یعنی آیت کو کسی مضمون یا واقعہ پر چسپاں کرنا، جیسا کہ اس میں اور بھی بہت سی مثالیں آگے آئیں گی۔ اَيُّنَا لَمْ يَظْلِمُ : صحابہ نے ظلم سے مطلق گناہ مراد لیا ہے مگر آنحضرت صلی الہ ہم نے دوسری آیت کے حوالہ سے اس کی تشریح فرمادی کہ ظلم سے مراد شرک ہے۔ (ماخوذ از ترجمہ و شرح صحیح بخاری بخاری جلد اول صفحه ۷۹، ۸۰) ا (بخاری، کتاب استتابة المرتدين، باب ما جاء فى المتأولين، روایت نمبر ۶۹۳۷) (بخاری، کتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَنَ الْحِكْمَةَ، روایت نمبر ۳۴۲۹)