صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 287 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 287

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۸۷ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام گروہوں کی صورت میں ملادے اور تم میں سے بعض کی طرف سے بعض کو تکلیف پہنچائے۔دیکھ ہم دلیلوں کو کس طرح بار بار بیان کرتے ہیں تا کہ وہ سمجھیں اور تیری قوم نے اس (امر یعنی پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جھوٹا قرار دیا ہے۔حالانکہ وہ سچا ہے۔تو اُن سے کہہ دے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ہر ایک پیشگوئی کی ایک حد مقرر ہوتی ہے اور تم جلد ہی ( حقیقت کو ) جان لو گے۔بَاب :٣ : وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام : ۸۳) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) انہوں نے اپنے ایمانوں کو کسی قسم کے ظلم سے نہیں ملایا ٤٦٢٩ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۶۲۹ محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِقٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِلى عدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ (بن سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ حجاج سے شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ سلیمان نے ابراہیم نخعی) سے، انہوں نے علقمہ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام:۸۳) ہے، علقمہ نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب آیت ، قَالَ أَصْحَابُهُ وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَنَزَلَتْ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ نازل ہوئی۔آپ إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) کے صحابہ نے کہا: اور ہم میں سے کون ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی: إِنَّ الشرك لظلم عظیم شرک بہت بڑا گناہ ہے۔أطرافه: ٣٢، ٣٣٦٠، ،۳٤۲۸ ،٣٤۲۹، ٤٧٧٦، ٦٩١، ٦٩٣٧- تشریح : وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ : اس آیت میں ظلم سے مراد شرک باللہ ہے جیسا کہ روایت زیر باب میں صراحت ہے۔ظلم کے معنی ہیں: وَضعُ الشَّيْنِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ ( فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب المظالم جزء ۵ صفحہ ۱۱۸) کسی چیز کو بے محل رکھنا۔ہر اک قسم کی بد اخلاقی اور ناجائز باتیں ظلم کے مفہوم میں شامل ہیں۔عبادت یعنی محبت و اطاعت جو دراصل اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔اس میں غیروں کو شریک بنالیا جاتا ہے۔انسان جو اس کا بندہ تھا اور اس کی مرضی پوری کرنے کے لیے آیا تھا۔اپنے نفس کا یا اپنے جیسے انسان کا یا ادنی ادنی ہستیوں کا بندہ بن کر اپنے آپ کو اس مقام سے بہت نیچے گرا دیتا ہے، جس پر کھڑا ہونے کے لیے اسے پیدا کیا گیا۔حقوق العباد میں ناجائز تصرف جس قدر ظلم ہے، حقوق اللہ میں ناجائز تصرف اس سے بدرجہا بڑھ کر ظلم ہے۔یہ ظلم کا مفہوم ہے جو شرک میں پورے طور پر پایا جاتا ہے۔شرک در اصل انسان کے غائیہ کمالیہ کو برباد کرنے والا ہے۔ایمان کامل وہ ہے جو شرک کی ملونی سے بکلی پاک ہو اولك لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (الأنعام: ۸۳)