صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 286
صحيح البخاری جلد ۱۰ MAY ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام قسم کے عذابوں میں سے آسمانی عذاب اور زمینی عذاب ہولناک ہیں۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے أَعُوذُ بِوَجْهت کے الفاظ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی ہے اور تفرقہ و خانہ جنگی کے عذاب کو باقی عذابوں کی نسبت آسان تر بتایا ہے۔مگر یہ تینوں سزائیں ہی جب شدت اختیار کر لیتی ہیں تو نا قابل برداشت ہو جاتی ہیں۔امام ابن حجر نے امام مسلم امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی، طبری اور ابن ابی حاتم وغیرہ کی متعدد روایتیں معنونہ آیت کے تعلق میں نقل کی ہیں کہ فوقانی عذاب سے بافراط باراں اور رحم آگ بگولے و طوفان اور قحط وغیرہ مراد ہیں اسی طرح اس سے آئِمَةُ السُّوء بُرے امام و سردار بھی ہو سکتے ہیں اور تحتانی عذاب سے جس طرح زلزلے وغیرہ مراد ہیں۔خُدَّامُ السُّوء (یعنی بُرے ملازم) بھی ہو سکتے ہیں اور اس بارہ میں حضرت ابی بن کعب کی روایت بھی نقل کی گئی ہے کہ یہ خیال درست نہیں کہ آسمانی قسم کا عذاب رجم و خسف و غیرہ تو امت محمدیہ پر نہیں آئے گا اور تفرقہ و خانہ جنگی وغیرہ کا عذاب آسکتا ہے بلکہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت میں جو امام احمد بن حنبل اور ترمذی نے نقل کی ہے یہاں تک صراحت ہے: (سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ ، قُلْ هُوَ الْقَادِرُ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ أَمَا إِثْهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ سزائیں ضرور واقع ہوں گی مگر ابھی تک ان کی تاویل ظاہر نہیں کہ کب اور کس صورت میں وقوع پذیر ہوں گی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۹۹ تا ۳۷۱) مشار الیہ روایتیں بعض تو مرفوع ہیں اور بعض مرسل اور وہ امام بخاری کی شرائط صحت کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کی گئی ہیں۔مذکورہ بالا روایات میں سے بعض میں یہ صراحت ہے کہ جس طرح پہلی قومیں ہمہ گیر عذاب سے دوچار ہوئیں جس نے ہمیشہ کے لیے اُن کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیا۔امت محمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت میں سے اہل اللہ کی دعاؤں کے طفیل ایسی ہمہ گیر تباہی سے بچائی جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔آنحضرت صلی علیکم کو مذکورہ بالا عذابوں کے متعلق متعدد مکاشفات کے ذریعہ مطلع کیا گیا ہے اور آپ نے انہیں بیان فرمایا ہے جو اپنے موقع پر بیان کیے جائیں گے۔وباللہ التوفیق معنونہ آیت پوری یہ ہے: قُلِ اللهُ يُنيكُم مِنْهَا وَ مِنْ كُلِ كَرْبِ ثُمَّ انْتُمْ تُشْرِكُونَ ، قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأسَ بَعْضٍ أَنْظُرُ كَيْفَ نُصَرِفُ الْأَنْتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ ، وَ كَذَبَ بِهِ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقِّ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ لِحْلِ نَبَا مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (الأنعام : ۶۵ تا ۶۸) تو (ان سے) کہہ دے کہ اللہ (ہی) تمہیں اس سے (بھی) اور ہر اک ( دوسری) گھبراہٹ سے (بھی) بچاتا ہے۔پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔تو (ان سے) کہہ دے وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر کی طرف سے عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے یا تمہیں (ایک دوسرے کے خلاف) آپس میں مختلف (ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب و من سورة الانعام ) (مسند احمد بن حنبل، مسند سعد بن ابی وقاص، جزء اول صفحه ۱۷۰)