صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۸۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنعام قَالَ أَعُوْذُ بِوَجْهِكَ : اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا لیتا ہوں۔(اللہ نے پھر فرمایا:) او يَلْبِسَم ، وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ ( الأنعام : ٦٦) شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ تو رسول الله قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَى لم نے فرمایا: یہ (اس سے) ہلکا ہے یا فرمایا یہ (اس سے) آسان ہے۔هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ۔أطرافه: ٧٣١٣، ٧٤٠٦ - تشريح : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوقِكُمْ : عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں تین قسم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔ایک قسم آسمانی جو ملائکتہ اللہ کے خالص تصرف سے نازل ہوتی ہے اور انسان اس میں بے بس ہوتا ہے۔اس کی روک تھام کے لیے نہ اسباب اختیار کر سکتا ہے نہ مہلت ملتی ہے کہ ان اسباب کا خیال ہی کر سکے۔اللہ تعالیٰ سزا سے متعلق اپنی سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔جب وہ ترقی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کو بھی دکھ سکھ پہنچ چکے ہیں۔ہمیں پہنچے تو کیا ہے۔اس طرح جب وہ نڈر ہو جاتے ہیں فَأَخَذْ لَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الأعراف: (۹۶) تو ہم انہیں اچانک گرفت میں لے لیتے ہیں بحالیکہ انہیں شعور تک نہیں ہوتا کہ کوئی عذاب آنے والا ہے أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَ هُمْ نَايَمُونَ (الأعراف: (۹۸) ہمارا عذاب اُنہیں رات کو آئے اور وہ سوئے ہوں۔أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحَى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (الأعراف: ۹۹) انہیں دو پہر کو ہمارا عذاب آئے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں۔غرض ایک قسم آسمانی سزا کی ہے جس کو معنونہ آیت میں عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری قسم عذاب مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمُ (الأنعام : ۲۶) کے الفاظ سے بیان فرمائی ہے۔تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، جیسے سیلاب و زلازل وغیرہ یا ماتحت لوگوں کے ذریعہ سے، جیسے رعیت کی بغاوت۔زار روس کا حال زار ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور موجودہ زمانے میں آئے دن اس قسم کی سزا کا مشاہدہ بار بار کرایا جا رہا ہے۔ساری قوم بالاتفاق آگ بگولے کی طرح اٹھتی اور قصر بریں کے اندر آغوش عیش و عشرت میں کروٹیں لینے والے منعميين کو واصل جہنم کر دیتی ہے۔تیسری قسم کی سزا کا ذکر الفاظ یکپسكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ (الأنعام: ۶۶) سے فرمایا ہے۔عنوان باب میں تلبس کے معنی باب افعال کے مفہوم میں ہیں یعنی ایک دوسرے کے ساتھ الجھانا، گتھم گے گتھا کر دینا۔یہ شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔شیعا سے مراد ہے کہ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر پل پڑو۔طبری نے حضرت ابن عباس سے شیعا کا مفہوم الْأَهْوَاءُ الْمُخْتَلِفَة نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۹) یعنی مختلف خواہشات نفس میں تمہیں مبتلا کر کے آپس میں گلو گیر کر دے۔اس سے مراد خانہ جنگی ہے جو بہتوں کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہوتی ہے۔اس باب کے تحت جو روایت (نمبر ۴۶۲۸) نقل کی گئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ان تین (مجاز القرآن لابي عبيدة، سورة الأنعام آیت: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ ، جزء اول صفحه (۱۹۴)