صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 283 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 283

۲۸۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام صحیح البخاری جلد ۱۰ الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِي نَفْسٌ مَا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِي نَفْسٌ بِاَتِي اَرْضِ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خبيره (لقمان:۳۵) ترجمہ: قیامت (یا کسی قوم کے آخری فیصلہ کا علم اللہ ہی کو ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا عمل کرے گا۔اور نہ کوئی شخص جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔اللہ ہی یقینا جانے والا ( اور ) خبر رکھنے والا ہے۔پہلی آیت کا سیاق واضح طور پر کفار عرب کے انجام بد سے متعلق ہے۔جس پر آیت قُلْ لَوْ أَنَّ عِنْدِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّلِمِينَ (الأنعام: ۵۹) دلالت کرتی ہے۔اسی سیاق سے مابعد کی آیت کا بھی تعلق ہے۔مَفَاتِحُ الْغَيْبِ بہت سے امور کو شامل رکھتا ہے۔جن میں سے ایک تباہی کی گھڑی ہے جو کسی ظالم قوم کے لیے مقدر ہوتی ہے۔سورۃ الانعام کی معنونہ آیت کی شرح کے تعلق میں روایت زیر باب کے نقل کرنے سے ظاہر ہے کہ امام موصوف کے نزدیک سورہ لقمان کی آیت کا تعلق قومی ہلاکت اور اس کے احیاء سے ہے جو اپنے وقت پر الہی سنت امانت و احیاء کے مطابق اسی طرح ظہور میں آتے ہیں۔جس طرح زمین کی روئید گیاں جو بغیر آسمانی پانی کے ناممکن ہے کہ وجود میں آئیں، مردہ زمین بغیر پانی کے کبھی زندہ نہیں ہو سکتی۔مشرکین اہل مکہ جو ظالم طبع تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں سر دھڑ کی بازی لگا چکے تھے ، وہ بطور اتمام حجت مخاطب کیے گئے ہیں۔فرماتا ہے : يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِئُ وَالدُّ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازِ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَا تَخْزَنَكُمُ الْحَياةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغْزَنَكُم بِاللهِ الْغَرُورُ ) (لقمان: ۳۴) اے لوگو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کے کام نہ آسکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آسکے گا۔اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔پس دنیا کی زندگی تم کو دھو کہ میں نہ ڈال دے اور نہ دھو کہ دینے والا شیطان تم کو اللہ کے بارے میں دھو کہ میں ڈالے۔اسی تعلق میں فرماتا ہے کہ اس گھڑی کا جس میں کوئی نفس کسی نفس کے کام نہ آئے گا اُس کا یقینی علم اللہ تعالی کو ہے۔وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ اس قیامت خیز گھڑی کے قیام پر رحمت باراں بھی ہو گی۔جس میں ایک دنیا جہان کی زندگی ہے اور رحموں میں جو نیک اولاد پیدا ہو گی وہ صالح وابدال اور اولیاء اللہ ہو گی اور قوموں کے لیے ایسے طور سے راہ نما ہو گی کہ لوگوں کو اس کا علم نہیں، اللہ ہی کو اُن کی شان کا علم۔وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكبُ غَدًا (لقمان: ۳۵) کسی نفس کو علم نہیں کہ جو کام وہ اس وقت کر رہا ہے اس کے کل کیا کیا نتائج نکلنے والے ہیں۔سورۃ الانعام کا آغاز الْحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ - (الأنعام: ۲) خالق ارض و سماوات و خالق ظلمات و نور کی حمد سے ہے۔تیسری اور چوتھی آیت میں یہ مضمون ہے کہ وہ زمین و آسمان کا معبود حقیقی تمہاری چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ تم کیا کچھ کمارہے ہو۔تمہیں عنقریب بہت بڑے ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تو کہہ دے کہ اگر وہ بات جس کی تم جلدی کرتے ہو میرے ہاتھ میں ہوتی تو ( اب تک ) ضرور میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا اور اللہ ظالموں کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تمام حمد اللہ ہی کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔“