صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 282 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 282

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۸۲ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام بَاب ۱ : وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (الأنعام : ٦٠) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی ٤٦٢٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۴۶۲۷: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَن کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ قَالَ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسَ اِنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیب کی اللهَ عِنْدَهُ عِلْمٌ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ چابیاں پانچ ہیں (اور یہ آیت پڑھی:) قیامت الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا ( یا کسی قوم کے آخری فیصلہ ) کا علم اللہ ہی کو ہے تَدْرِي نَفْسٌ مَا ذَا تَكْسِبُ غَدًا اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں میں جو وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِاَنِی اَرضِ تَمُوتُ کچھ ہے اسے جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا عمل کرے گا۔اور نہ کوئی شخص جانتا اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِير ل (لقمان: ٣٥) ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔اللہ ہی یقینا أطرافه: ۱۰۳۹، ٤٦٩٧، ۴۷۷۸، ۷۳۷۹ جاننے والا (اور) خبر رکھنے والا ہے۔تشريح۔وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ۔۔۔۔معنونہ آیت پوری یہ ہے: قُلْ لَّوْ أَنَّ عِنْدِى مَا ط تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقَضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالظَّلِمِينَ وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا الاَ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلا في كتب مُّبِينٍ (الأنعام: ۵۹، ۶۰) تو (اُن سے) کہہ دے کہ جس چیز کے متعلق تم جلدی کے خواہاں ہو اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان ( اختلافی ) امر کا فیصلہ (کبھی کا) ہو جاتا اور اللہ ظالموں کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔(جب چاہے گا فیصلہ کر دے گا) اور اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔سوائے اُس کے اُن (غیبوں) کو کوئی نہیں جانتا اور جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جان لیتا ہے اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی تر (چیز) ہے اور نہ خشک (چیز) جو (اس کی) کھلی (کھلی) حفاظت میں نہ ہو۔سیاق کلام کا تعلق کفار مکہ کے محاسبہ اور انجام بد سے ہے اور روایت زیر باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورۃ لقمان میں وارد ہوئی ہے اور وہ یہ ہے: إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي