صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 281 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 281

صحیح البخاری جلد ۱ ۲۸۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام کے لیے یقینا ( بہت سے ) نشانات ہیں۔لفظ قنوان کے وزن پر لفظ صنو وصنوان کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ سورۃ الرعد کی اس آیت میں ہے : وَ فِي الْأَرْضِ قِطَع مَتَجُورَتٌ وَ جَنْتُ مِنْ أَعْنَابٍ وَ زَرْعٍ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَ غَيْرُ صِنْوَانٍ يَسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأَكُلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الرعد:۵) اور زمین میں ایک دوسرے کے پاس پاس کئی اقسام کے ) قطعات ہیں اور کئی طرح کے انگوروں کے باغات اور (کئی قسم کی کھیتی اور طرح طرح کے) کھجور کے درخت (جن میں سے بعض) ایک ایک جڑ سے کئی کئی نکلنے والے (ہوتے ہیں) اور (بعض) ایک ایک جڑ سے کئی کئی نکلنے والوں کے خلاف (ایک ہی تنے کے ہوتے ) ہیں۔جنہیں ایک ہی طرح کے) پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ( باوجود اس کے) پھل کے لحاظ سے ہم ان میں سے بعض (درختوں) کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں۔اس میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں، کئی نشان (موجود) ہیں۔سورۃ الانعام کی تفسیر کے تعلق میں بعض الفاظ یا جملوں کے معانی نقل کیے گئے ہیں وہ اکثر آسان ہیں۔لفظ فتْنَتْهُمْ بمعنی مَعْذِرَتُهُمْ جو قتادہ سے بھی مروی ہے، تُبسل بمعنی تفضح یا تُسْلَمُ یا تُحْبَس ہے۔اور ابسِلُوا بمعنى أسْلِمُوا اور الْبَسْطُ بمعنى الضَّرُب، اسْتَكْثَرْتُم بمعنی أَضْلَلْتُمْ كَثِيرًا ہے۔یہ معنی بطور مفہوم سیاق کلام کے ہیں نہ بلحاظ لغت۔اِن الفاظ کے سوا باقی کا مفہوم نہ از روئے کلام مشکل ہے نہ سیاق کلام۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری نے سورۃ الانعام سے متعلق تفسیری ابواب و روایات قائم کرنے سے قبل تمہید میں ان مخصوص الفاظ یا آیات کا انتخاب کس غرض سے کیا ہے۔اس کا جواب آسان نہیں۔ہر صاحب علم و ذوق سورۃ الانعام کے موضوع پر نظر ڈالنے سے ان کا تعلق نفس موضوع سے سمجھ سکتا ہے۔میرے نزدیک جس طرح سورۃ المائدۃ کی تمہید میں اس کا موضوع بعض الفاظ یا فقروں سے نمایاں کیا گیا تھا۔وہی طریق سورۃ الانعام کی تمہید میں اختیار کیا گیا ہے۔امام بخاری کے نزدیک سورۃ الانعام مندرجہ ذیل امور پر مشتمل ہے۔اقول: ایمان بالبعث: یعنی حیات آخرت میں محاسبہ اعمال اور جواب رہی۔محاسبہ اعمال کا سلسلہ ایک حد تک دنیا کی زندگی میں بھی قائم ہے۔نوم: رسولوں کی بعثت سے اصل غرض عقیدہ و عمل کی اصلاح ہے۔بنیادی عقیدے تین ہیں: ایمان باللہ ، ایمان بالآخرة اور توحید اور رسولوں اور ملائکہ پر ایمان ایک درمیانی حلقہ ہے۔سوم: مشرکین عرب کے عقائد کی سخافت (ناپختگی) و نا معقولیت۔جهارم: ہدایت سے محرومی کے اسباب دو قسم کے ہیں: عارضی اور مستقل اور ان کا ازالہ و علاج۔ينجم: اللہ تعالیٰ کا مالکانہ تصرف سے غیر معمولی نشانات کا مشاہدہ کرا کر نیک انقلاب پیدا کرنا۔تمہید میں مذکورہ بالا پانچ باتیں بطور رؤوس الاقلام معلوم ہوتی ہیں۔اب ذیل میں ابواب معہ متعلقہ روایات کی تشریح ملاحظہ ہو۔