صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 280
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۸۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام الْمُوقِنِينَ ( الأنعام : ۷۲) اور ہم ابراہیم کو اس طرح آسمانوں اور زمینوں پر (اپنی) بادشاہت دکھاتے تھے ( تا اس کا علم کامل ہو) اور تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔ لفظ جن سے اس سورۃ (الانعام) کی آیت نمبرے ے مقصود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَا كَوْكَبًا قَالَ هُذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْأَفِلِينَ ) یعنی ( ایک دن ایسا ہوا کہ ) جب رات نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے ایک ستارہ دیکھا ( اسے دیکھ کر ) اس نے کہا کہ کیا یہ میرا رب ( ہو سکتا) ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا کہ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ لفظ حُسبان سے اس آیت کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے : فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ) ( الأنعام : (۹۷) یعنی وہ صبح کو ظاہر کرنے والا ہے اور اس نے رات کو باعث آرام اور م اور سورج اور چاند کو ذریعہ حساب بنایا ہے۔ یہ اندازہ اس کا ہے جو غالب۔ غالب ہے ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔ سیاق کلام میں حُسبات کا مفہ کا مفہوم وقت کا اندازہ کرنا ہے۔ باقی معنوں کا سورۃ الانع انعام کے تعلق میں کوئی محل نہیں۔ امام بخاری یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ ہتے ہیں کہ لفظ کا مطلق لغوی معنی قابل اعتماد نہیں بلکہ معنی مقصود سیاق کلام سے متعین ہوتا ہے۔ محولہ آیت یہ موضوع واضح کرنے پر بہت عمدہ مثال ہے۔ تفسیر آیات میں یہ امر ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ مستقر کا لفظ سورة الأنعام الانعام میں دو جگہ وارد ہوا ہے۔ فرماتا ہے : وَ كَذَبَ بِه بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ لِكُلِّ نَبَا مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (الأنعام: ۶۷، ۶۸) ترجمہ : اور تیری قوم نے اس (امر یعنی پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ سچا ہے۔ تو اُن سے کہہ دے کہ میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ ہر ایک پیشگوئی کی ایک حد مقرر ہوتی ہے اور تم جلد ہی ( حقیقت کو جان لو گے۔ اور دوسری جگہ وَهُوَ الَّذِي انْشَاكُم مِّنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَر فَمُسْتَقَرُّ وَ مُسْتَوْدَع قَدْ فَضَلْنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ ) (الأنعام:99) ترجمہ : اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کے بعد اُس نے (تمہارے لیے ) ایک عارضی ٹھہرنے کی جگہ اور ایک لمبے عرصے تک رہنے کی جگہ مقرر کی ہے۔ ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لیے نشانات کھول کر بیان کر دیئے ہیں۔ مستقر سے مراد دنیا کی زندگی ہے جو عارضی قرارگاہ ارگاہ ہے ہے اور اور مستودع مستودع سے حیات آخرت کا کا کا عام عالم برزخ۔ جہاں انسان کا اعمال نامہ سپرد کر دیا جاتا ہے۔ امام بخاری نے مُستقر سے مراد باپ کی پشت اور مستودع سے رحم مادر جو نقل کیے ہیں یہ ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ لیکن معمر نے قتادہ سے اس کے بالکل بر عکس معنی نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۶۶) القِنْوُ سے یہ آیت مقصود ہے : وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةً وَجَنَّتٍ مِنْ أَعْنَابِ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَانَ مُشْتَبِهَا وَ غَيْرَ مُتَشَابِهِ - انْظُرُوا إِلَى ثَمَرِةِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَايَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ )) يُؤْمِنُونَ ( الأنعام : ١٠٠) اور کھجور میں سے یعنی اس کے گابھے میں سے جھکے ہوئے پھل ( نکالتے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے ایسے باغات ( نکالتے ہیں) جن میں سے بعض آپس میں ملتے جلتے ہیں اور (بعض) مختلف ہیں جب ( ان میں سے ہر قسم کے درخت کو پھل آتا ہے تو اس کے پھل کو اور اس کے پکنے کی کیفیت) کو دیکھو۔ اس میں ایمان لانے والے لوگوں