صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 279
۲۷۹ صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام (زمانہ حیات کے لیے ) ایک میعاد تجویز کی اور ایک اور میعاد بھی ہے۔جس کا علم صرف اسی کو ہے۔پھر بھی تم شبہ کرتے ہو۔سورۃ الانعام کی آیت ۲۶ کا حوالہ نقل کیا جا چکا ہے، جس میں الفاظ وقرا اور اساطیر وارد ہوئے ہیں۔الْبَأْسَاءُ سے مقصود ہے آیت وَلَقَد أَرْسَلْنَا إِلَى أَمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْ نَهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَعُونَ ) ( الأنعام : ۴۳) یعنی اور ہم تجھ سے پہلی قوموں کی طرف (رسول) بھیج چکے ہیں اور (اُن رسولوں کے آنے کے بعد ) ہم نے انہیں (یعنی منکرین کو اس لئے مالی اور جسمانی تکلیفوں میں گرفتار کیا تھا کہ وہ عجز اختیار کریں اور الْبَأْسُ سے یہ آیت مراد ہے: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ او يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضِ أَنْظُرُ كَيْفَ نُصَرِفُ الْأَيْتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ (الأنعام: (٦٦) یعنی تو (ان سے) کہہ دے وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر کی طرف سے عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے یا تمہیں (ایک دوسرے کے خلاف) آپس میں مختلف گروہوں کی صورت میں ملادے اور تم میں سے بعض کی طرف سے بعض کو تکلیف پہنچائے۔دیکھ ہم دلیلوں کو کس طرح بار بار بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔الفاظ الْبَأْسَاءُ الْبَأْسُ اور الْبُوسُ کا اشتقاق ایک ہی ہے۔الباش کے معنی جنگ کے ہیں۔سورۃ النحل آیت ۸۲ میں فرماتا ہے : وَجَعَلَ لَكُم سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ۔یعنی اور اُس نے تمہارے لیے کئی قسم کی قمیصیں بنائی ہیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور بعض قمیصیں (یعنی زر ہیں) ایسی ہیں جو تمہیں تمہاری (آپس کی) جنگ ( کی سختی) سے بچاتی ہیں۔لفظ آنکس کا بھی اشتقاق ایک ہی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام طور سے واپسی پر اپنی قوم سے اُن کی گوسالہ پرستی پر افسوس کا اظہار کرتے اور فرماتے ہیں پسما خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِى (الأعراف: ۱۵۱) ترجمہ : کیا ہی بُری جانشینی ہے جو تم نے میرے بعد کی ہے۔لفظ آلبوش کے معنی بری حالت، اقتصادی فقر وفاقہ۔لفظ البأسان مذکورہ بالا عام معانی کا متحمل ہے۔جَهْرَةً سے آیت قُلْ أَرَوَيْتَكُمْ إِنْ اَللكُم عَذَابُ اللهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّلِمُونَ ) رہ (الأنعام: ۴۸) کی طرف اشارہ ہے یعنی تو کہہ دے کہ بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر اچانک ( بلا اطلاع ) یا ظاہر طور پر آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا ( کوئی اور شخص) ہلاک کیا جائے گا۔وقو الضُّوَرُ جمع ہے صُورَ کی کی۔اور بعض نے اس کی جمع صور بیان کر کے اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلَهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (الأنعام : ۷۴) یعنی وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ (میرے منشاء کے مطابق یوں ) ہو جائے (اسی طرح) ہو جائے گا، اس کی بات ہو کر رہنے والی ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا، حکومت (صرف) اسی کو (حاصل) ہوگی (وہ) پوشیدہ اور ظاہر (باتوں) کا جاننے والا ہے اور وہ حکمت والا (اور) خبر دار ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۵) ملکوت سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے : وَكَذَلِكَ نُرِى ابْراهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ