صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 278
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۸ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام دروازہ کھول دیں گے تو وہ مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے۔یعنی اس سے بچنے کی راہیں بند دیکھ کر بالکل مایوس ہو جائیں گے۔سرمد ا سے سورۃ القصص کی آیت ۷۲ ۷۳ کی طرف ضمنا توجہ دلائی گئی ہے۔فرماتا ہے: قُلْ اَرعَيْتُم اِن جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ الهُ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيَكُم بِضِيَاء أَفَلَا تَسْمَعُونَ ، قُلْ أَرَوَيْتُمُ ان جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارِ سَرْمَدًا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ الهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيَكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ) ترجمہ : تو (ان سے) کہہ، مجھے بتاؤ تو سہی اگر اللہ تمہارے لیے قیامت کے دن تک رات کو لمبا کر دے تو اللہ کے سوا اور کون ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے گا کیا تم سنتے نہیں ؟ تو کہہ دے مجھے بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ دن کو قیامت کے دن تک تمہارے لیے لمبا کر دے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس رات کو لے آئے۔جس میں تم سکون پاؤ۔کیا تم دیکھتے نہیں ؟ استهوَتْهُ سے مراد تین آیات ہیں: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبَا وَ لَهُوا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيَا وَ ذَكِّر به أنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيُّ وَلَا شَفِيعُ وَ إِنْ تَعْدِلُ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا أُولبِكَ الَّذِينَ أَبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ، قُلْ أَندُعُوا مِن دُونِ اللهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَه أَصْحَبُ يَدْعُونَكَ إِلَى الْهُدَى انْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الهُدى وَ أَمِرْنَا لِنَسْلِمَ لِرَبِّ العلمينَ لا وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (الأنعام: ۷۱ ۷۲ ۷۳) اور تو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو مشغلہ اور کھیل بنا لیا ہے اور ورلی زندگی نے انہیں دھو کہ میں ڈالا ہوا ہے چھوڑ دے اور اس (کلام الہی) کے ذریعہ سے نصیحت کر۔تا ( ایسا نہ ہو ) کہ کسی جان کو اس کے کمائے ہوئے کے سبب سے اس طرح ہلاکت میں ڈال دیا جائے کہ خدا کے سوا اس کا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ شفیع ہو ، اور اگر وہ ہر اک (قسم) کا بدلہ بھی دیں تو ان سے قبول نہ کیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اُن کی کمائی کے سبب سے ہلاکت میں ڈال دیا جائے گا۔اُنہیں ان کے کفر کے سبب سے پینے کو گرم پانی ( ملے گا) اور دردناک عذاب ہو گا۔تو (ان سے) کہہ دے: کیا ہم اللہ کے سوا اسے پکاریں جو نہ ہمیں (کوئی) نفع دیتا ہے اور نہ ضرر دیتا ہے اور کیا اللہ کے ہدایت (دے) دینے کے بعد ہم اس (شخص) کی طرح اپنی ایڑیوں کے بل لوٹائے جائیں جسے سرکش (لوگ) زمین میں بہکا کر لے گئے ہوں۔(اور وہ ) حیران و پریشان ہو رہا ہو۔اس کے (کچھ) ساتھی تو ایسے ہیں جو اسے ( یہ کہتے ہوئے) پکارتے ہیں کہ ہمارے پاس آ، تا ہدایت پائے۔تو (اُن کا فروں سے) کہہ دے کہ یقیناً اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم سب جہانوں کے رب کی فرمانبرداری کریں اور یہ بھی ہدایت دی گئی ہے ) کہ نمازوں کو باشرائط ادا کرو اور اُس (یعنی خدا ) کو اپنی ڈھال بناؤ اور وہی ہے جس کی طرف تم اکٹھے کر کے لے جائے جاؤ گے۔تمترُونَ سے اس آیت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے : هُوَ الَّذِى خَلَقَكُم مِّنْ طِيْنِ ثُمَّ قَضَى أَجَلا وَاجَل مُسَمًّى عِنْدَهُ ثم أَنْتُم تَمْتَرُونَ (الأنعام:۳) وہ خدا ہی ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے۔پھر