صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 277
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۷ ۶۵ کتاب التفسير / الأنعام اما استَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ : یہ انعام آیت ۱۴۴، ۱۴۵ کا حصہ ہے، جن میں آٹھ جوڑے جانوروں کی جلت کا ذکر ہے۔مشرکین عرب میں جلت و حرمت کے قواعد معین نہ تھے۔کاہنوں اور پروہتوں کی مرضی پر منحصر تھا۔آیات متذکرہ بالا میں اس کی اصلاح کی گئی ہے۔مسفوحا سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے: قُلْ لَا أَجِدُ في مَا أَوْحَى إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فَسَقًا أَهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطَرِّ غَيْرَ بَاغَ وَلَا عَادِ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ( الأنعام : ۱۴۶) ترجمہ: تو اُن سے کہہ کہ جو کچھ میری طرف نازل کیا گیا ہے میں تو اس میں اس شخص پر جو کسی چیز کو کھانا چا ہے، سوائے مردہ یا بہتے ہوئے خون یا سور کے گوشت کے کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔( سور کا گوشت) اس لیے کہ وہ نجس ہے یا فسق کو ( حرام پاتا ہوں) یعنی اس چیز کو جس پر خدا کے سوا کسی اور چیز کا نام لیا گیا ہو۔لیکن جو شخص ( اس کے کھانے پر مجبور ہو جائے بغیر اس کے کہ وہ (شریعت کا مقابلہ کرنے والا ہو یا حد سے نکلنے والا ہو تو ( وہ یادر کھے کہ تیرا رب یقیناً بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔صدف سے یہ آیت مراد ہے : اَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَبُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَيْنَةٌ من رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ، فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ بِأَيْتِ اللهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْرِفُونَ عَنْ ابْتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِقُونَ (الأنعام: (۱۵۸) ترجمہ : یا ( یوں نہ ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اُتاری جاتی تو ہم یقیناً اُن سے زیادہ ہدایت پاتے۔سو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلی دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔پس (یاد رکھو کہ) جس نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اُن ( پر ایمان لانے ) سے رک رہا، اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا۔ہم ضرور انہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لانے) سے رُک رہتے ہیں ، ان کے رُک رہنے کی وجہ سے تکلیف دہ عذاب کی سزا دیں گے۔اس آیت کا سیاق کلام اس آیت سے دو آیتیں قبل شروع ہوتا ہے: وَهَذَا كِتَبُ أَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) ( الأنعام : ۱۵۶) یہ وہ کتاب ہے جو جامع ہے اور اصلاح حال ترقی کی کفیل ہے۔ہم نے اسے اُتارا ہے سو اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔اجلسوا سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْ نَهُمْ بَغْتَةً فَإِذَاهُمْ مُّبْسُونَ (الأنعام : (۲۵) یعنی اور پھر جب وہ اُس (امر) کو بھول گئے جو انہیں یاد دلایا جاتا تھا تو ہم نے اُن پر ہر اک چیز کے دروازے کھول دیئے۔یہاں تک کہ جب وہ اس پر خوش ہو گئے جو انہیں دیا گیا تھا تو ہم نے انہیں اچانک عذاب میں مبتلا کر دیا جس پر وہ یکدم نااُمید ہو گئے۔سابقہ آیات کی مناسبت سے اس آیت کا حوالہ بطور عبرت دیا گیا ہے۔مبادا اس مبارک کتاب کے احکام ترک کرنے یا بھولنے سے تمہارا سابقہ امتوں کا سا انجام ہو۔آنکس کے معنی قطعی طور پر مایوس ہو گیا۔جیسا کہ فرماتا ہے: حَتَّى إِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بابا ذَا عَذَابٍ شَدِيدٍ إِذَا هُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ) (المومنون : ۷۸) یعنی یہاں تک کہ جب ہم اُن پر ایک سخت عذاب کا