صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۱۰ A ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة اس کا مفصل بیان ہے اور اس کے ان صفات سے فیضیاب ہونے یا محروم رہنے کی حالت میں جو نیک و بد نتائج جزا و سزا کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، دنیا میں یا آخرت میں ، وہ قرآنِ مجید میں واضح کئے گئے ہیں۔یہی تینوں باتیں سورۃ فاتحہ میں مجملاً مذکور ہیں۔اس لئے وہ قرآن مجید کے لئے اُمّ الکتاب ٹھہری اور اسلامی عبادت کا ضروری حصہ قرار دی گئی کہ اس کے بغیر نماز نہیں۔امام ابن حجر نے سورہ فاتحہ کے نام الْكَنز، الْوَافِيَة ، الشَّافِيَة ، الْكَافِيَة، سُورَةُ الحَمد اَلْحَمْدُ لله، سُوْرَةُ الصَّلاة، سُوْرَةُ الشَّفَاء، سُوْرَةُ الْأَسَاس، سُورَةُ الشَّكْر اور سُورَةُ الدُّعا بھی بیان کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۹۶) یہ نام وصفی ہیں۔کسی صحابی نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر ایک شخص کے درد کا علاج کیا، اس لئے سورۃ فاتحہ کی برکت نمایاں کرنے کی غرض سے اس کا نام سورۃ الشفاء رکھا گیا۔امام بخاری نے ایسی غیر مستند روایتیں نظر انداز کر دی ہیں۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ : اس آیت میں دین کے معنی مذہب یا طریق نہیں بلکہ محاسبہ و مجازاۃ ہیں۔یعنی نیکی بدی کا بدلہ۔یہ تشریح بھی ابو عبیدہ ہی کی ہے۔اور مجاہد کی جس تفسیر کا حوالہ دیا گیا ہے ، وہ حاکم نے بعض صحابہ سے نقل کی ہے۔کے مذکورہ بالا تفسیر کا حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ لفظ دین کے کئی معافی ہیں۔مثلاً عادت، عمل، حکم، حالت، خلق، اطاعت، غلبه، ملت، شریعت، تقویٰ، سیاست وغیرہ جن کا امام ابن حجر نے ذکر کیا ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۹۶) هِيَ السَّبُعُ الْمَقانی: باب کے تحت جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورۃ فاتحہ ہی کا حصہ ہے، اس سے الگ نہیں۔اسے شامل کر کے اس کی سات آیتیں ہوتی ہیں۔السَّبُعُ الْمَقَانِي سورۃ فاتحہ کا نام ہے اور اس کے معنی ہیں سات آیتیں جو بار بار دہرائی جائیں۔مثانی آلہ ساز، سارنگی یا برابط وغیرہ کی کنجیاں جن سے آواز میں زیر و بم پیدا کیا جاتا ہے اور سرور کے مختلف نغمے حاصل ہوتے ہیں، کو بھی کہتے ہیں۔بِسمِ اللہ کی آیت شامل کرنے سے ہی سات آیتیں ہوتی ہیں۔اس لئے اس کا اور دوسری سورتوں کا یہ حصہ ہے، ان سے الگ آیت نہیں، جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔مذکورہ بالا ارشادِ نبوی میں قرآن مجید کی یہ آیت مد نظر ہے: وَلَقَدْ آتَيْنَكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ O (الحجر: ۸۸) روایت نمبر ۴۴۷۴ سے ظاہر ہے کہ السَّبْعُ الْمَتَانی سورہ فاتحہ کا دوسرا نام ہے اور تقابل سے ظاہر ہے کہ سورہ فاتحہ کی سات آیات اور قرآن عظیم بلحاظ اہمیت مطالب برابر ہیں۔مجاز القرآن لأبي عبيدة، أم الكتاب سورة الفاتحة، جزء اوّل صفحه (۲۳) (المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب التفسير، تفسير سورة الفاتحة، جزء ۲ صفحه ۲۸۴) ترجمه از تفسیر صغیر: ”اور ہم نے یقینا تجھے سات دہرائی جانے والی ( آیات) اور ( بہت بڑی ) عظمت والا قرآن دیا ہے۔“