صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 7
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵- کتاب التفسير / الفاتحة گے، انہیں بڑھ چڑھ کر سزا ملے گی۔ الا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيَّاتِهِمْ حَسَنَةٍ ، وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا وَمَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا (الفرقان: ۷۲،۷۱) ترجمہ : سوائے اس کے جس نے توبہ کرلی اور ایمان لایا اور ایمان کے مطابق عمل کئے۔ پس یہ لوگ ایسے ہوں گے کہ الله (تعالی) ان کی بدیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تعالیٰ) بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے اور جو توبہ کرے اور اس کے مطابق عمل کرے تو وہ شخص حقیقی طور پر اللہ (تعالی) کی طرف جھکتا ہے۔ امام بخاری نے بسم اللہ سے شروع کر کے الرحمن اور الرحیم کو اسماء الہیہ میں سے اسم مشتق قرار دینے کے علاوہ اس تعلق میں کوئی روایت نقل نہیں کی اور نہ یہاں اس بحث میں گئے ہیں کہ بسم اللہ ہر سورۃ کا حصہ ہے یا نہیں۔ اس لئے باعتبار اسم وصفی اور مشتق ہونے کے دونوں صفتوں کا مفہوم اور ان کے درمیان فرق کی وضاحت ضروری سمجھ کر قدرے تفصیل سے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو فرق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے، اس کی تائید قرآن مجید کی آیات با یات بینات سے جا بجا ہوتی ہے۔ یہ آپ کی تشریح ایک ایسا بیان واضح ہے کہ اگر اسے مد نظر رکھ کر قرآن مجید کی سورتیں تدبر سے پڑھی جائیں تو اس امر میں ذرہ شبہ نہیں رہتا کہ آیت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ سورتوں کے درمیان محض بطور علامت فصل و وقفہ نہیں۔ بلکہ ہر سورت کا مستقل عنوان اور حصہ ہے اور یہ اس لئے کہ سورتوں میں احکام الہیہ ، نواہی و اوامر اور مجازات ثواب و عقاب کا ذکر ہے اور بموجب نص صریح وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الأعراف: ١٥٧) اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر رحمت ہر شے پر حاوی و حاوی وشامل ہے، جیسا کہ اس کا غضب و مواخذہ اور گرفت و سزا بھی رحمت سے خالی نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عین حکمت سے ہر سورۃ کا آغاز بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے کیا ہے اور یہ ہر سورۃ کا اسی طرح حصہ ہے جس طرح اس کی دیگر آیات۔ بعض علماء نے اسے سورتوں کا حصہ قرار نہیں دیا۔ اس بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر ، تفسیر سورۃ الفاتحۃ، جلد اول صفحہ ۱۲ تا ۱۸۔ اگلے باب میں امام بخاری نے یہ سوال خود بھی حل فرمایا ہے۔ مَا جَاءَ فِي فَاتِحَةِ الْكِتَاب: عنوان باب سورۃ فاتحہ سے متعلق کر کے اس کے ساتھ ابو عبیدہ کا قول نقل کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا نام اس لئے اٹھ الکتاب ہے کہ ہر مصحف کی ابتداء میں وہ لکھی اور نماز کی ہر رکعت اس سے شروع کی جاتی ہے۔ کے بعض نے کہا: ”ھ“ کے معنی اصل کے ہیں۔ ماں عربی میں اُٹھ کہلاتی ہے کہ بچے کی : کہ بچے کی پیدائش کا منبع ہے۔ سورۃ فاتحہ کی آیات بطور اصول ہیں اور قرآن مجید ان کی شرح و تفصیل ہے۔ اس لئے سورۃ فاتحہ کا نام ام الکتاب ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۸ صفحہ ۱۹۵) دونوں تو جیہیں درست ہیں۔ ابو عبیدہ کی توجیہہ بھی امر واقعہ ہے اور دوسری توجیہہ بھی۔ قرآن مجید میں صفات باری تعالیٰ کا ذکر ہے اور جس صورت میں ان صفات کا انسان سے تعلق ہے ا ترجمه از تفسیر صغیر: اور میری رحمت ہر ایک چیز کو حاوی ہے۔“ (مجاز القرآن لأبي عبيدة ، أم الكتاب سورة الفاتحة، جزء اول صفحه (۲۰)