صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 276
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام وجہ سے مصیبت میں ڈالے گئے۔ ان دونوں لفظوں سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے : وَ ذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَ لَهْوًا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعُ وَ إِنْ تَعْدِلُ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا أُولَئِكَ الَّذِينَ أَبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ) ( الأنعام : (۷) ترجمہ : اور تو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو مشغلہ اور کھیل بنالیا ہے اور ورلی زندگی نے اُنہیں دھوکا میں ڈالا ہوا ہے، چھوڑ دے اور اس (کلام الہی) کے ذریعہ سے نصیحت کر۔ تا (ایسا نہ ہو) کہ کسی جان کو اس کے کمائے ہوئے کے سبب سے اس طرح ہلاکت میں ڈال دیا جائے کہ خدا کے سوا اُس کا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ شفیع ہو، اور اگر وہ ہر اک (قسم) کا بدلہ بھی دیں تو اُن سے قبول نہ کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اُن کی کمائی کے سبب سے ہلاکت میں ڈال دیا جائے گا۔ اُنہیں اُن کے کفر کے سبب سے پینے کو گرم پانی ( ملے گا) اور درد ناک عذاب ہو گا۔ じー تُبْسَلَ اور ابسلوا کے مذکورہ بالا معنی بھی ابن ابی حاتم نے بسند علی بن ابی طلحہ تُفْصَحَ وَ أَفْضِحُوا حضرت ابن عباس سے نقل کیے ہیں اور عبد بن حمید نے مجاہد کے حوالہ سے ان تُبْسَل کے معنی ) آن تُسْلَمَ اور بحوالہ فتاده آن تُحبس کیے ہیں۔ یعنی سپر د کیے اور روکے جائیں گے اور باسِطُوا أَيْدِيهِمْ میں بَسُط کے معنی ضرب ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کیے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۴) اس سے مقصود سورۃ الانعام کی آیت ۹۴ ہے۔ یہ شرح اس آیت کی ہے : وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمْ (الأنعام : ۹۴) اور اگر تو دیکھے کہ جب ظالم موت کی تکالیف میں ہوں گے اور ملائکہ ہاتھ مارتے ہوئے کہیں گے کہ اپنی جانیں نکالو۔ آیت کا یہ مفہوم حضرت ابن عباس ہی سے مروی ہے۔ اسی سورۃ کی آیت ۱۲۹ میں جو فرمایا ہے : لِمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ (الأنعام: ۱۲۹) کے معنی ہیں اے جنوں کی جماعت تم نے انسانوں کو بہت گمراہ کیا ہے۔ یہ مفہوم بھی ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ہی سے نقل کیا ہے۔ اور انہی سے آیت وَ جَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَا مِنَ الْحَرْثِ (الأنعام:۱۳۷) کا یہ مفہوم مروی ہے کہ مشرکین نے کھیتی باڑی اور باغات کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ شیطان اور بتوں کا مقرر کر دیا ہے۔ لفظ آكِنَّةً جو جمع کنان ہے، اس آیت میں وارد ہوا ہے: وَمِنْهُم مَّنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ اكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءُ وَكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (الأنعام : (۶) ترجمہ: اور اُن میں سے بعض (لوگ) ایسے ہیں جو تیری باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تا کہ وہ اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں بہر اپن (پیدا کر دیا) ہے اور گو وہ ہر ایک قسم کا ) نشان دیکھ لیں وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ( ان کی حالت) یہاں تک ( پہنچی ہوئی ہے) کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑتے ہیں۔ کافر کہتے ہیں یہ (قرآن) صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں۔