صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 275
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام آیت کا مفہوم واضح ہے کہ مشرک باطل پرستی اور نفس پروری میں ایسے مستحکم ہیں کہ اگر فرشتہ بھی آسمان سے شریعت کی کتاب کے ساتھ اُترے تب بھی وہ نہیں مانیں گے اور کئی قسم کے بہانے بنا کر اُسے ٹال دیں گے۔ چونکہ معصیت اُن کی سرشت کا جزو بن چکی ہے۔ اس لیے اس کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کا فعل بھی بطور سزا مماثل اور مشابہہ شکل میں صادر ہوتا ہے۔ یہ مفہوم آیت لَلْبَسُنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُونَ کا ہے۔ لِأُنْتِ رَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ سے مراد یہ ہے کہ تا میں اس کے ذریعہ سے تمہیں اور جن کو یہ قرآن پہنچے اُنہیں خطرے سے آگاہ کر دوں۔ پوری آیت یہ ہے : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدًا بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ وَ أُوحِيَ إِلَى هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ أَنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُلْ لَا اشْهَدُ قُلْ ۔ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلهُ وَاحِدٌ وَ إِنَّنِي بَرِى مِمَّا تُشْرِكُونَ (الأنعام: (۲۰) تو کہہ یہ سب سے زیادہ (سچی) گواہی دینے والی کونسی ہستی ہے۔ پھر (خود ہی جواب میں) کہہ دے کہ اللہ ، وہ تمہارے اور میرے در میان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے ذریعے سے (آنے والے عذاب سے ) ہو شیار کروں اور ان (سب) کو بھی جن تک یہ پہنچے کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہیں (اور پھر اپنی طرف سے ) کہہ دے کہ تم ایسی جھوٹی گواہیاں دیتے پھر و) میں تو یہ گواہی نہیں دیتا ( پھر اُن سے ) کہہ دے کہ وہ (خدا) تو اپنی ذات میں صرف اکیلا خدا ہے اور میں تو ان چیزوں سے جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو، بیزار ہوں۔ اس آیت میں بھی مشرکین پر اتمام حجت کا ذکر ہے۔ وینٹون سے اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ دیا گیا ہے۔ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ نَ عَنْهُ وَيَنْتَونَ عَنْهُ وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُونَ ( الأنعام : ۲۷) اور وہ اس سے (اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی) اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے آپ کے سوا کسی کو ہلاک نہیں کرتے، مگر وہ سمجھتے نہیں۔ کنون کے معنی يَتَبَاعَدُونَ بھی حضرت ابن عباس سے بسند ابن جریح مروی ہیں۔ یعنی دور ہوتے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ اس سے ما قبل آیت میں مشرکین کی ہدایت سے محرومی کی چھ سات وجوہات کا ذکر ہے۔ فرماتا ہے: وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا وَ جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَ فِي يَفْقَهُوهُ وَ فِي أَذَانِهِمْ وَقُرًا وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءُ وَكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (الأنعام: ۲۶) اور اُن میں سے بعض (لوگ) ایسے ہیں جو تیری ( باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے اُن کے دلوں پر پر دے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ اسے (نہ) سمجھیں اور اُن کے کانوں میں بہر اپن ( پیدا کر دیا) ہے اور گو وہ ہر ایک (قسم کا) نشان دیکھ لیں۔ وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ( ان کی حالت) یہاں تک پہنچی ہوئی ہے) کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑتے ہیں۔ کافر کہتے ہیں یہ (قرآن) صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ مذکورہ بالا وجوہات کا ذکر آیت لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ کے تسلسل میں ہی وارد ہوا ہے۔ ان تبسل کے معنی ہیں أنْ تُفْضَحَ - یعنی مبادا مصیبت میں پڑ کر اس کی فضیحت ہو اور اُنسِلُوا بِمَا كَسَبُوا کے معنی ہیں اپنی کرتوتوں کی