صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 274
۲۷۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام صحیح البخاری جلد ۱۰ وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ) (الأنعام : ۱۴۲) یعنی وہ (خدا) ہی ہے جس نے لکڑیوں کے سہارے پر کھڑے ہونے والے باغات اور بغیر سہارے کھڑے ہونے والے باغات اور کھجوریں اور کھیتیاں جن کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اور انار کو اس صورت میں کہ وہ (آپس میں) مشابہ (بھی) ہیں اور ( بعض صورتوں میں) نہیں ( بھی ) پیدا کیا ہے۔تم جب اُن درختوں کو پھل لگے تو ان کے پھل کو کھاؤ اور اس کے کاٹنے کے دن اُس (خدا) کا حق ادا کرو اور اسراف سے کام نہ لو۔کیونکہ وہ اسراف سے کام لینے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس کے بعد کی آیت میں حمولة آیا ہے۔جس کے معنی ہیں بار برداری کے جانور اور فرشا کے معنی پست قد جانور جو بار برداری کے قابل نہیں۔جیسے بھیڑ بکری یا اونٹ اور گائے بیل کے بچے۔ابن ابی حاتم ہی نے یہ معنی حضرت ابن عباس سے بواسطہ علی بن ابی طلحہ نقل کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۳) پوری آیت یہ ہے: وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَ فَرْشَا كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (الأنعام : ۱۴۳) اور چارپایوں میں سے لادر جانور بھی ہیں اور چھوٹے بھی ہیں۔اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے تم اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔وہ یقینا تمہارا کھلا (کھلا) دشمن ہے۔مذکورہ بالا دونوں آیتوں کے آخر میں اسراف یعنی بے جا اور زائد از ضرورت کھانے پینے سے روکا گیا ہے کہ حدود سے بڑھنا محبت الہی سے محرومی ہے۔جو مفہوم لا تسرفوا کا ہے، وہی مفہوم لا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطن کا ہے۔بتایا جا چکا ہے کہ لفظ شیطان کے اشتقاق میں حدود سے تجاوز کرنا اور ہلاکت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔صفت رحمانیت و رحیمیت کے طفیل طرح طرح کے اسباب معیشت پیدا کیے گئے اور سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں اور انسان پر عدم اسراف کی پابندی عائد کر کے اس کے لیے موقع پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اطاعت شعاری اور شکر گزاری سے اپنے خالق کی رضا و محبت کا جو یاں ہو اور اگر وہ اطاعت نہیں کرتا اور حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس کا باغی نفس اسی کا دشمن ہے اور اس بغاوت میں اس کی اپنی ہلاکت کا سامان ہے۔دونوں آیتوں میں مثبت اور منفی پہلوؤں سے انسان کو الہی نعمتوں کا قدردان ہونے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔آیت مَا كُنَّا مُشْرِكيْنَ (الأنعام:۲۴) کے تعلق میں ان دونوں آیتوں کا حوالہ بر محل ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک صرف بتوں کو خدا سمجھنے اور اس کی پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ ہوا و ہوس کی پیروی اور احکام الہی سے سرکشی بھی شرک ہے۔للبسنا کے معنی نَشَبهُنَا ہیں۔ہم ضرور مشتبہ کر دیتے یہ معنی بھی مذکورہ بالا سند ہی سے مروی ہیں۔اس سے یہ آیتیں مراد ہیں: وَقَالُوا لَوْلَا أَنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكَ ، وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ وَلَوْ جَعَلْنَهُ ملَكًا لَّجَعَلْنَهُ رَجُلًا وَ لَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ (الأنعام: ۹، ۱۰) ترجمہ: اور (مخالف) کہتے ہیں، اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اُتارتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا۔پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور (یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ) اگر ہم اس (پیامبر) کو فرشتوں میں سے تجویز کرتے تب بھی ہم اسے مرد کی شکل ہی دیتے اور ان کے اوپر پھر بھی وہ بات مشتبہ کر دیتے جسے اب وہ مشتبہ سمجھ رہے ہیں۔