صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 273 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 273

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنعام جَنّ (الأنعام : ٧٧) أَظْلَمَ۔تَعَلى جَن کے معنی اندھیرا چھا گیا۔تعلی کے معنی ہیں (الأنعام : ١٠١) عَلَا وَإِن تَعدِلُ وہ بلند و بالا ہوا۔وَ اِنْ تَعدِلُ کے معنی ہیں اگر وہ (الأنعام: ۷۱) تُقْسِطُ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا برابر کا بدلہ بھی دے تو اس دن اس سے قبول نہ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ۔کیا جائے گا۔يُقَالُ عَلَى اللهِ حُسْبَانُهُ أَيْ حِسَابُهُ۔کہا جاتا ہے کہ اللہ کے ذمے اس کا حُسبان یعنی وَيُقَالُ حُسْبَانًا (الكهف: ٤١) مَرَامِيَ حساب ہے۔اور حُسہانا چھوٹے تیروں کو بھی و رُجُومًا لِلشَّيطِينِ۔(الملك : ٦) کہتے ہیں اور ایسا ہی اس کے معنی شیطان پر پھینکنے کے حربے کے بھی ہیں۔مُسْتَقَرٌّ (الأنعام : ۹۹) فِي الصُّلْبِ مُسْتَقَرٌّ کے معنی ہیں باپ کی پشت میں اور وَ مُسْتَودَ (الأنعام:(۹۹) فِي الرَّحِمِ مُستودع کے معنی ہیں رحم مادر میں۔الْقِنْوُ الْعِدْقُ وَالاثْنَانِ قِنْوَانِ قِنُو کے معنی ہیں خوشہ ، اس کی تثنیہ قِنْوَانِ وَالْجَمَاعَةُ أَيْضًا قِنْوَانُ (الأنعام: ۱۰۰) اور اسی طرح جمع قنوان ہے۔جیسے صنو اور تشریح: صنوان ( جڑ میں ملے ہوئے درخت۔) مِثْلُ صِنْرٍ وَ صِنْوَانٍ۔حضرت ابن عباس کے حوالہ سے فتنہ کے معنی عذر و معذرت جو مروی ہیں یہ ابن ابی حاتم نے بسند ابن جریج عطاء سے موصولاً نقل کیے ہیں۔معمر نے قتادہ سے اس کے معنی مَقَالَتَهُم (ان کا قول ) روایت کیے ہیں۔لیکن عبد الرزاق وغیرہ نے ان سے بھی عذر ہی کے معنی روایت کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۳) پوری آیت یہ ہے : ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَ اللَّهِ رَبَّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (الأنعام:۳۳) پھر اس کے جواب میں وہ صرف یہ کہیں گے کہ اللہ کی قسم جو ہمارا (سچا) رہے ہے۔ہم (تو) مشرک تھے (ہی) نہیں۔اس سے پہلے مشرکین کے زعم باطل کا ذکر ہے کہ ان سے روز محشر جواب طلبی ہوگی اور وہ معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ہمارا مقصود و مطلوب در اصل تیری ہی ذات تھی۔معروشت سے مراد انگور وغیرہ بیل دار پودے ہیں جو زمین پر پھیل جاتے ہیں اور جنہیں سہارا دے کر کھڑا کیا جاتا ہے اور غَيْرَ مَعْرُوشت سے وہ پودے مراد ہیں جو کسی سہارے کے محتاج نہیں اپنے تنوں کے بل کھڑے ہوتے ہیں۔الفاظ کی یہ شرح بسند ابن جریج، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۳۶۳) پوری آیت جس میں ان کا ذکر ہے یہ ہے: وَهُوَ الَّذِى اَنْشَا جَنتِ فَعُرُوشَتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَةٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أَكْلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالزَّمَانَ مُتَشَابِهَا وَ غَيْرَ مُتَشَابِهِ كُلُوا مِن ثَمَرَةٍ إِذَا أَثْمَرَ وَاتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِ؟