صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 272
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۲ ۶۵- کتاب التفسير الأنعام مسْفُوحًا ( الأنعام : ١٤٦) مُهْرَاقًا۔ یا نر کے سوا اور کچھ رکھتے ہیں۔ پھر تم کیوں کسی کو صدف (الأنعام: ١٥٨) أَعْرَضَ أُبْلِسُوا حرام اور کسی کو حلال قرار دیتے ہو۔ مَسْفُوحًا کے معنی ہیں جس کا خون بہایا جائے۔ صدف کے أُوْيِسُوا ، أَبْسِلُوا (الأنعام: ۷۱) معنی ہیں اس نے اعراض کیا، منہ پھیرا۔ انسو کے أُسْلِمُوا ۔ سَرْمَدًا (القصص: ۷۲) دَائِمًا۔ اسْتَهوَته (الأنعام: (۷۲) أَضَلَّتْهُ۔ معنی ہیں نا اُمید ہو گئے۔ ( اور أُولَئِكَ الَّذِينَ ابْسِلُوا میں) ابسلوا کے معنی ہیں ہلاکت کے سپرد کر دیئے يَمْتَرُونَ (الحجر: ٦٤) (مريم : (٣٥) گئے ۔ سَرْمَدًا کے معنی ہیں ہمیشہ - اسْتَهْوَتُهُ : اس يَشُكُونَ۔ وَقْرًا ( الأنعام : ٢٦) صَمَم کو گمراہ کر دیا۔ تَمْتَرُونَ (الأنعام : ۳) کے معنی وَأَمَّا الْوِقْرُ فَهُوَ الْحِمْلُ أَسَاطِيرُ ہیں تم شک کرتے ہو۔ وقرا کے معنی ہیں بہرہ پن (الأنعام : ٢٦) وَاحِدُهَا أُسْطُورَةٌ اور وقر جو لفظ ہے اس کے معنی ہیں بوجھ جو جانور وَإِسْطَارَةً وَهُيَ التَّرَّهَاتُ الْبَأْسَاء پر لادا جاتا ہے ۔ أَسَاطِيرُ کی مفرد اُسْطُورَةُ اور إِسْطَارَةُ ہے اس سے مراد ہے: لغو باتیں ، جھوٹی (الأنعام : ٤٣) مِنَ الْبَأْسِ وَيَكُونُ مِنَ کہاوتیں۔ الْبَأْسَاء: یہ الباس سے ہے ( یعنی سختی) الْبُوسِ جَهْرَةً (الأنعام : ٤٨) مُعَايَنَةً۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ البؤس سے مشتق الصُّوَرُ جَمَاعَةُ صُورَةٍ كَقَوْلِهِ سُورَةٌ ہو۔ (جس کے معنی ہیں محتاجی اور تکلیف) وَسُوَرٌ ، مَلَكُوت (الأنعام : ٧٦) (الأنعام : ٧٦) وَ مُلْكَ جَهْرَةً کے معنی کھلم کھلا، آمنے سامنے دیکھنا۔ مِثْلُ رَهَبُوتٌ خَيْرٌ مِّنْ رَّحَمُوتِ الصُّوَر جمع ہے صُورَةٍ کی، جیسا کہ (اللہ تعالیٰ) کے وَيَقُولُ تُرْهَبُ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تُرْحَمَ۔ قول میں سُورَةُ اور سُوَرٌ ہے۔ مَلَكُوت اور ملک کے معنی ہیں بادشاہت۔ یہ الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے رَهَبُوت رَحَمُوت ضرب المثل ہے: رَهَبُوتُ خَيْرٌ مِنْ رَّحَمُوتٍ یعنی ڈرایا جانا رحم کی اُمید رکھنے سے بہتر ہے۔ اور کہتے ہیں کہ رحم مجھے ڈرایا جائے یہ بہتر ہے اس سے کہ تو رحم کی اُمید رکھے۔ ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں تَمْتَرُونَ تَشْكُونَ ہے ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔