صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 271
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۷۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنعام ورووو ٦- سُورَةُ الْأَنْعَامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ لَمْ تَكُن حضرت ابن عباس نے کہا: (ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ 19917 فِتْنَتُهُمْ (الأنعام : ٢٤) مَعْذِرَتُهُمْ۔میں فتنہم کے معنی ہیں: اُن کا عذر مَعْرُوشت (الأنعام:١٤٢) مَا يُعْرَشُ مَعْرُوشت: سہارے جو انگور وغیرہ (کی بیلوں) مِنَ الْكَرْمِ وَغَيْرِ ذَلِكَ۔کے لیے ہوتے ہیں۔حَمُولَةً (الأنعام : ١٤٣) مَا يُحْمَلُ حَمُولَةٌ سے مراد وہ جانور ہیں جن پر بوجھ لادا عَلَيْهَا۔وَلَلَبَسْنَا (الأنعام: ۱۰) لَشَبَّهنا جاتا ہے۔(وَ لَكَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُونَ میں) لأنذركم به (الأنعام:٢٠) أَهْلَ مَكَّةَ لَبَشنَا کے معنی ہیں ہم ضرور شبہ ڈال دیں گے۔ينون (الأنعام: ٢٧) يَتَبَاعَدُونَ۔تُبْسَلَ لأنذركم به کے معنی ہیں تاکہ اہل مکہ کو اس (قرآن) کے ذریعہ ہوشیار کروں۔يَنْون کے (الأنعام: ۷۱) تُفْضَحَ۔معنی ہیں دور ہوئے ہیں۔ابسلوا (الأنعام : ۷۱) أَفْضِحُوا تُبسَل کے معنی ہیں کہ رسوا کیا جائے۔ابسلوا کے باسِطُوا أَيْدِيهِمْ (الأنعام: ٩٤) الْبَسْطُ معنی ہیں اُن کی فضیحت کی گئی۔( بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ ) الضَّرْبُ۔اسْتَكْثَرْتُمُ (الأنعام: ۱۲۹) میں بسط کے معنی ہیں مارنا۔استكثر تم کے معنی أَضْلَلْتُمْ كَثِيرًا۔ہیں تم نے بہتوں کو گمراہ کیا۔مِمَّا ذَراً مِنَ الْحَرْثِ (الأنعام : ۱۳۷) وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَا مِنَ الْحَرْثِ کے معنی ہیں کہ جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ اُنہوں نے اللہ کے لیے اپنے پھلوں اور مالوں نَصِيبًا، وَلِلشَّيْطَانِ وَالْأَوْثَانِ نَصِيْبُهَا۔میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے، اور اسی طرح آكِنَّةً (الأنعام: (٢٦) وَاحِدُهَا كِنَانٌ شیطان اور بتوں کے لیے اس کا ایک حصہ ٹھہرایا لَمَّا اشْتَمَلَتْ (الأنعام : ١٤٤) يَعْنِي هَلْ ہے۔آكِنَّةً کا مفرد كنان ہے ، ( یعنی پردہ۔) تَشْتَمِلُ إِلَّا عَلَى ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى فَلِمَ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ میں) تُحَرِّمُوْنَ بَعْضًا وَتُحِلُّوْنَ بَعْضًا اشْتَمَلَتْ کے معنی ہیں کیا اُن کے رحم اپنے اندر مادہ 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں " نَصِيباً “ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۶۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔