صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 269
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۶۹ ۶۵ کتاب التفسير / المائدة ج لَيْسَ لِي بِحَقِّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَه تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِى وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّام الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (المائدۃ: ۱۱۸،۱۱۷) ترجمہ : اور جب اللہ نے کہا: اے عیسی ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو۔تو اس نے جواب دیا کہ (ہم) تجھے ( تمام عیبوں سے ) پاک قرار دیتے ہیں۔میری شان کے شایاں نہ تھا کہ میں (وہ بات ) کہتا جس کا مجھے حق نہ تھا اور اگر میں نے ایسا کہا تھا تو تجھے ضرور اس کا علم ہو گا۔جو کچھ میرے جی میں ہے تو جانتا ہے اور جو کچھ تیرے جی میں ہے میں نہیں جانتا۔تو یقیناً (سب) غیب کی باتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔میں نے ان سے صرف وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرد، جو میرا ( بھی ) رب ہے اور تمہارا بھی رہ ہے اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا، میں اُن کا نگران رہا۔مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا ( میں نہ تھا ) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔مذکورہ بالا آیتیں عقیدہ حیات مسیح اور ان کے مزعومہ نزول ثانی کے بارے میں فیصلہ کن ہیں اور اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توفیت کا مفہوم بیان فرما دیا ہے کہ اس سے مراد وفات ہے نہ کہ رفع جسمانی اور روایت نمبر ۴۶۲۵ میں الفاظ مُنذُ فَارَقْتَهُم سے ان کی وفات اسی قسم کی مفارقت قرار دی گئی ہے، جیسی آپ کی مفارقت تھی۔علاوہ ازیں حضرت عیسی السلام کا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ کا تعلق تنزیہہ باری تعالیٰ سے اور دوسرے حصے کا اپنی برکت سے ہے۔کلمہ سُبحنك میں اللہ تعالیٰ کی سبوحیت کا ذکر ہے کہ ذات واحدانیت کی شان سے بعید ہے کہ اپنے کسی رسول کو حکم دے کہ لوگ معبود حقیقی کو چھوڑ کر اس کی عبادت کریں۔ان کی بعثت سے مقصود ہی یہ ہوتا ہے کہ شرک کی بیخ کنی کی جائے۔(٢) مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولُ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ : میرے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے حق نہیں۔میں محض پیغامبر تھا جو پیغام پہنچانے کا مجھے حکم دیا گیا تھا وہی پہنچا سکا تھا۔اس کے سوا پیغام کا مجھے اختیار نہیں تھا۔ان الفاظ سے اپنی برآت کا اظہار ہے۔٣ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَه : ان الفاظ سے اپنی برات میں راست باز ہونے پر خود اللہ تعالی ہی کو شاہد ٹھہرایا ہے جو علیم ہے۔تُعْلَمُ مَا فِي نَفْسِى وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ : ان الفاظ میں بتایا ہے کہ میرے نفس میں بھی اپنی عبادت کی نسبت کوئی خواہش نہ تھی۔نہ زبان سے میں نے کسی کو کہا کہ میری یا میری ماں کی عبادت کرو اور ہمیں خدا سمجھو اور نہ اس کی مجھے خواہش ہوئی۔ه إِنَّكَ أَنتَ عَلامُ الْغُيُوبِ : کوئی راز تجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ان الفاظ سے اپنی برات کا انتہائی اظہار ہے۔