صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 6
صحیح البخاری جلد ۱۰ Y ۶۵ - کتاب التفسير / الفاتحة سے مدد ہے، اس لئے حاصل شدہ نتیجہ عمل اس کے لئے بے برکت ہوگا۔ حضرت مسیح موع موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صفت رحمانیت سے وہ رحمت مراد لی ہے جو کسی عمل و محنت کے نتیجہ میں صادر نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر کس و ناکس پر بلا مبادلہ واستحقاق شامل ہے۔ باب فعلان کے خواص میں وسعت، غلبہ اور اعتلاء پایا جاتا ہے اور صفت رحیمیت کا تعلق اس رحمت سے ہے جو عمل و محنت پر صادر ہوتی ہے۔ پہلی صفت کے تحت انسان کی پیدائش سے قبل اس کے لئے تمام لو از مات قیام و بقائے حیات و ارتقاء کا وجود پذیر ہو جاتا ہے۔ دوسری صفت کے تحت انسان کا اپنی خداداد قوتوں سے کام لینا اور اس کے لئے خیر و برکت کے نتائج کا پیدا ہونا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان دو صفتوں کی فصاحت پورے بسط سے بیان کی ہے۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: یہ آیت قرآن شریف کے شروع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے ۔ ھنے سے مدعا یہ ہے کہ تا اس ذات مستجمع جمیع صفات کاملہ سے طلب کی جائے، جس کی صفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رحمن ہے اور طالب حق کے لئے محض تفضل اور احسان سے اسباب خیر اور برکت اور رُشد کے پیدا کر دیتا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ رحیم ہے۔ ہے۔ یعنی سعی اور کوشش کرنے والوں کی کوششوں کو ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ ان کے جدوجہد پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے اور ان کی محنت کا پھل ان کو عطا فرماتا ہے اور یہ دونوں صفتیں یعنی رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو پہنچ نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہو گا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔ خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہو رہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پاکر خد داد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد اول حاشیه صفحه ۴۲۱، ۴۲۲) قرآن مجید : مجید میں جہاں جہاں مذکورہ بالا جہاں مذکورہ بالا ناموں کا ذکر وارد ہوا ہے وہاں رحمن سے ان فیوض باری تعالیٰ کا ذکر وابستہ ہے، جو بلا معاوضہ کد و عمل محض بمقتضائے ربوبیت عامہ وجود پذیر ہیں اور رحیم کے ساتھ جہد و عمل کا تعلق مثلاً التَّوَّابُ الرَّحِيمُ يا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - جب تک معصیت اور گناہ سے توبہ نہ ہو اور عمل صالحہ بجا نہ لایا جائے، مغفرت رحمت شامل حال نہیں ہوتی۔ فرماتا ہے : جو شریک باری تعالیٰ ٹھہرائیں گے اور قتل و زنا وغیرہ گناہوں کا ارتکاب کریں و