صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير / المائدة قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرِ عَنِ ابْنِ اُنہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَبَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپ نے فرمایا: إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَالَ كَمَا اے لوگو! تم اللہ کے پاس اکٹھے کئے جاؤ گے ننگے پاؤں، ننگے بدن ، بے ختنہ۔پھر آپ نے یہ آیت تُنَا بد أنا أوّلَ خَلْقٍ تُعِيدُهُ ، وَعْدًا عَلَيْنَا پڑھی: جیسے ہم نے پہلی پیدائش کو شروع کیا اسی إنا كنا فعِلِينَ ) (الانبياء : (١٠٥) إِلَى طرح ہم اس کو دوبارہ پیدا کریں گے۔ہمارے آخِرِ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ زمہ یہ ایک وعدہ ہے۔ہم ضرور ایسا کرنے والے الخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ القِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ہیں۔یہ آیت پڑھ کر آپ نے فرمایا: سنو! تمام أَلَا وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي مخلوقات میں سے قیامت کے دن جس کو پہلے فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا پہل لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم ہیں۔سنو ! رَبِّ أُصَيْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي اور میری امت میں سے کچھ آدمی لائے جائیں مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ گے، پھر انہیں بائیں جانب لے جائیں گے۔اس الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا وقت میں کہوں گا: اے میرے رب ! یہ تو میرے ما دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ ساتھی ہیں، یہ تو میرے ساتھی ہیں۔) جواب دیا ( الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة: ۱۱۸) فَيُقَالُ جائے گا: تو نہیں جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِینَ عَلَى کیا کیا نئی باتیں کیں، تو میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے نے کہا تھا: اور میں ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان میں رہا جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا دیکھنے بھالنے والا تھا۔اس پر جواب دیا جائے گا: یہ لوگ تو جب سے تو ان سے جدا ہوا، اپنی ایڑیوں کے بل پھرے رہے۔أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ۔أطرافه: ٣٣٤٩ ، ٣٤٤٧، ٤٦٢٦، ٤٧٤٠، ٦٥٢٤، ٦٥٢٥، ٦٥٢٦-